صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 82 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 82

صحیح البخاری جلدی ۸۲ ۶۱ - كتاب المناقب من الله س صا صا الترسيم فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ نَعَمْ پاس کچھ ہے؟ حضرت ام سلیم نے کہا: ہاں۔ یہ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَارًا مِنْ شَعِيْرٍ ثُمَّ کہہ کر جو کی کچھ روٹیاں نکال لائیں۔ پھر انہوں نے أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَّهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ اپنی ایک اوڑھنی نکالی اور ان روٹیوں کو اس کے بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلَا ثَتْنِي ایک کنارے میں لپیٹ دیا اور وہ میرے ہاتھ میں بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ دے دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ میرے بدن پر لپیٹ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ دیا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علم کی طرف مجھے بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله بھیجا۔ حضرت انس کہتے تھے: میں وہ لے کر چلا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ گیا۔ تو رسول الله صلى ال علم کو مسجد : علیہ علیم کو مسجد میں پایا۔ آپؐ کے النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي ساتھ کچھ لوگ تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو رسول الله صلى اله علم صلی اللہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا ابو طلحہ نے ارْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ تجھے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: بِطَعَامٍ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ کھانا دے کر ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی الیم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَّعَهُ نے ان لوگوں سے کہا جو آپ کے پاس تھے: چلو قُوْمُوْا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اُٹھو۔ آپ چل پڑے اور میں بھی آپؐ کے آگے حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ آگے چل پڑا اور حضرت ابو طلحہ کے ۔ پاس پہنچا اور أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ ان کو بتایا۔ حضرت ابو طلحہ کہنے لگے : ام سلیم! رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول الله صل علی کم لوگوں کو لے آئے ہیں اور ہمارے بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ پاس اتنا کھانا نہیں جو اُن کو کھلائیں۔ وہ بولیں: اللہ فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ فَانْطَلَقَ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللهِ گئے اور جاکر رسول اللہ صلی علیم سے ملے۔ رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ ل ام آئے، آئے، حضرت ابو طلحہ ۲ رت ابو طلحہ آپ کے ساتھ تھے۔ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: ام سلیم ! جو تمہارے وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ پاس ہو وہ لے آؤ۔ وہ روٹیاں لے آئیں تو رسول اللہ صد الله