صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 76
صحیح البخاری جلد باب ٢٥ : عَلَامَاتُ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ اسلام میں نبوت کی علامتیں ۶۱ - كتاب المناقب بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں نبی صلی ایم کے ساتھ ٣٥٧١: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۳۵۷۱: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ سلم بن سَلْمُ بْنُ زَرِيْرٍ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ قَالَ زِبیر نے ہمیں بتایا۔میں نے ابور جاء سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت عمران بن حصین نے ہم سے حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أَنَّهُمْ كَانُوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے اور وہ رات بھر چلتے رہے۔جب صبح ہونے وَسَلَّمَ فِي مَسِيْرِ فَأَدْلَجُوْا لَيْلَتَهُمْ لگی تو آرام کرنے کے لئے اترے۔ان کی آنکھ حَتَّى إِذَا كَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ عَرَّسُوْا لگ گئی اور اتنی دیر سوئے رہے کہ سورج بلند ہو گیا۔فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ تو حضرت ابو بکر پہلے تھے جو اپنی نیند سے بیدار ہوئے اور رسول اللہ صلی ایم کو آپ کی نیند سے الشَّمْسُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ نہیں جگایا جاتا تھا جب تک کہ آپ خود ہی بیدار منَامِهِ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ لَا يُوْقَظُ نہ ہوں۔پھر حضرت عمرؓ جاگے۔حضرت ابو بکر رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنحضرت صلی علیم کے سرہانے بیٹھ گئے اور تکبیر کہنے مِنْ مَنَامِهِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ فَاسْتَيْقَظَ لگے اور اپنی آواز بلند کرتے تھے۔یہاں تک کہ نبی صل اللم جاگے (اور وہاں سے کوچ کا حکم دیا۔) عُمَرُ فَقَعَدَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ پھر دوسری جگہ جاکر ٹھہرے اور ہمیں صبح کی نماز فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى پڑھائی۔لوگوں میں سے ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔جب آپ فَنَزَلَ وَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ فَاعْتَزَلَ نماز سے فارغ ہو چکے تو آپ نے پوچھا: اے فلاں! رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تم کو کس بات نے روکا ہے؟ اس نے کہا: مجھے نہانے کی ضرورت انْصَرَفَ قَالَ يَا فُلَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ ہو گئی تھی۔آپ نے اسے تمیم کرنے کے لئے فرمایا۔تُصَلِّيَ مَعَنَا قَالَ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ پھر اس نے نماز پڑھی۔اور (حضرت عمران کہتے فَأَمَرَهُ أَنْ يَّتَيَمَّمَ بِالصَّعِيْدِ ثُمَّ صَلَّى تھے کہ ) رسول اللہ صلی الم نے مجھے ان سواروں