صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 75
البخاری جلد ۷۵ ۶۱ - كتاب المناقب أَوَّلُهُمْ أَيُّهُمْ هُوَ فَقَالَ أَوْسَطُهُمْ هُوَ سے وہ کون ہے ؟ اس نے کہا: جو اُن کے درمیان ہے وہی ان سب سے بہتر ہے۔تیسرے نے جو اخیر خَيْرُهُمْ وَقَالَ آخِرُهُمْ خُذُوا خَيْرَهُمْ میں تھا یہ کہا کہ جو ان سب میں سے بہتر ہے، اس فَكَانَتْ تِلْكَ فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّى جَاءُوا کو لے چلو۔یہ واقعہ اس رات اتنا ہی ہوا تھا۔پھر لَيْلَةً أُخْرَى فِيْمَا يَرَى قَلْبُهُ وَالنَّبِيُّ آپ نے ان کو نہیں دیکھا۔یہاں تک کہ ایک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمَةٌ عَيْنَاهُ دوسری رات وہ آئے۔یہ واقعہ منجملہ انہی امور کے ہے جن کو آپ کا دل مشاہدہ کیا کرتا تھا اور نبی وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ تَنَامُ ال کی آنکھیں سوئی ہوئی ہو تیں اور آپ کا أَعْيُنُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوْبُهُمْ فَتَوَلَّاهُ دل نہ ہوتا اور اسی طرح تمام انبیاء ہوتے ہیں۔جبْرِيلُ ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ۔ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کے دل نہیں سوتے۔جبرئیل نے آپ کو اپنے ساتھ لیا اور پھر اطرافه ۴۹۶۴، ۵۶۱۰، ۶۵۸۱، ۷۵۱۷ آپ کو لے کر آسمان کی طرف چڑھ گئے۔تشریح: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ: اس باب کے تحت ایک حوالہ اور۔دو روایتیں ہیں۔حضرت جابر کی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے، وہ کتاب الاعتصام باب۲ روایت نمبر ۷۲۸۱ میں مفصل آئے گی۔روایت نمبر ۳۵۶۹ کتاب صلاة التراویح بابا، روایت نمبر ۲۰۱۳ میں گذر چکی ہے۔اس تعلق میں کتاب الوضوء باب ۵ روایت نمبر ۱۳۸ بھی دیکھئے جس کا آخری حصہ عبید بن عمیر سے مروی ہے۔روایت نمبر ۳۵۷۰ کتاب التوحید باب ۳۷ روایت نمبر ۷۵۱۷ میں مفصل آئے گی۔اس روایت سے آپ کی بیداری قلب کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ سب انبیاء علیہم السلام بیدار قلب ہوتے ہیں اور یہ کہ معراج کا واقعہ بھی روحانی مشاہدات میں سے ایک مشاہدہ تھا، جسمانی نہ تھا۔یہ امر کہ جبرئیل کا نزول بھی از قبیل تمثلات ہے، شیخ عبدالحق محدث دہلوی کو بھی مسلم ہے۔دیکھئے ان کی کتاب مدارج النبوۃ، باب سوم در بد و وحی و ثبوت نبوت، وصل بد انکه علماوحی را مراتب عدیده ذکر کرده اند ، ثالث آنکه تمثل میکرد جبرئیل آنحضرت را بصورت مردے، جلد دوم صفحہ ۳۶،۳۵۔اس تعلق میں مدلل اور مفصل بیان کے لئے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی تصنیف لطیف آئینہ کمالات اسلام کا حصہ دافع الوساوس ملاحظہ ہو۔( آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۸ تا ۱۲۶)