صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 73
صحیح البخاری جلدی ۷۳ ۶۱ - كتاب المناقب ترجمہ : علیکم محمد (صلی اللہ ) نے اپنی قوم کے قوم کے لیے کردار کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ آپ کی شخصیت پاک اور بے داغ تھی۔ آپ کا گھر، آپ کا لباس، آپ کی خوراک غیر معمولی طور پر سادہ تھی۔ آپ کے مزاج میں ایسا تواضع اور انکسار تھا کہ اپنے متبعین کی طرف سے تعظیم و تکریم کے کسی علامتی انداز کو قائم نہیں ہونے دیا۔ اور نہ ہی کبھی اپنے خادم سے ایسا کام لیتے جو آپ خود کر سکتے۔ بسا اوقات آپ بازار سے ضروریاتِ زندگی کی خریداری بھی کرتے دیکھے گئے۔ ہر ایک کو آپ سے ملاقات کرنا ہر وقت ممکن ہوتا تھا۔ آپ بیماروں کی عیادت کیا کرتے تھے۔ آپ سب کے ہمدرد اور غمگسار تھے۔ آپ کی رحمدلی اور شفقت لا محدود تھی۔ رفاہ عامہ اور اصلاح معاشرہ کے آپ شدید فکر مند رہتے تھے۔ آپ کی خدمت میں کثرت سے تحائف آتے تھے، اموال غنیمت اس کے علاوہ تھے۔ لیکن بوقت وفات جو اموال آپ نے پیچھے چھوڑے وہ بہت تھوڑے تھے۔ اور پھر آپ نے انہیں بھی (ورثہ میں شامل نہیں ہونے دیا۔ بلکہ ) قومی اموال قرار دیے دیا تھا۔ ولیم میور کا بیان ہے : "It is quite in keeping with the character of Mahomet that The fair character and honourable bearing of the unobtrusive youth won the approbation of his fellow-citizens; and he received the title, by common consent, of AL AMIN - the faithflil۔" (The Life of Mahomet, Chapter II, page: 18, 19) المسلم ترجمہ : محمد (صلی علیم) کی شخصیت کا بغور مشاہدہ کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شفاف کردار اور زمانہ شباب کی گوشہ نشینی نے بستی والوں پر آپ کا معززانہ اثر ورسوخ قائم کر دیا تھا۔ عوام الناس کی طرف سے الامین یعنی ” بے حد قابل اعتماد کے خطاب سے نوازے گئے تھے۔ باب ٢٤ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ تھی کہ آپ کی آنکھ سوتی اور آپ کا دل نہ سوتا اریم رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مِيْنَاءَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ سعید بن میناء نے حضرت جابر سے ، حضرت جابر النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ نے نبی صلی علیم سے ( یہ بات ) روایت کی۔ رم