صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 71 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 71

صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب اس ادب و احترام کے منافی ہے، آپ کی عظمت و شان جس کی متقاضی ہے۔الفاظ ناز و ادا، عشوہ و کرشمہ وغیرہ کسی بزرگ کی شان میں استعمال کرنا درست نہیں چہ جائیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ الفاظ استعمال کئے جائیں۔اس سے ہمیں اعراض کرناضروری اور صحابہ کرام کی سادگی اور صداقت شعاری کی اتباع لازمی ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدح سرائی میں مبالغہ آمیزی اور خلاف واقع اسلوب اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے بلکہ اس طریق کو یہود و نصاری کی نقالی قرار دیا ہے۔روایت نمبر ۳۵۵۴ تا ۳۵۶۸ میں آپ کے بعض اخلاق کا بیان ہے جن میں سخاوت، نرمی، دھیما پن، سرور و انبساط کی صفات خاص طور پر بیان ہوئی ہیں۔یہ خلاصہ ہے باب ۲۳ کی روایات کا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا بیان تفصیلات کا محتاج ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ آپ صفات باری تعالیٰ کے مٹنی تھے تو اس میں قطعاً مبالغہ نہ ہو گا۔غیر مسلم علماء و فلاسفہ کو بھی یہ حق بات تسلیم ہے۔عیسائی یورپ کے سر بر آوردہ زعماء و محققین میں سے چند شخصیتوں کے اقوال کا حوالہ دینا کافی ہو گا۔تھامس کارلائل نے رسول اللہ صلی علیم کی شخصیت کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے: "Mahomet himself, after all that can be said about him, was not a sensual man۔We shall err widely if we consider this man as a common voluptuary, intent mainly on base enjoyments, nay on enjoyments of any kind۔His household was of the frugalest; his common diet barley-bread and water: sometimes for months there was not a fire once lighted on his hearth۔They record with just pride that he would mend his own shoes, patch his own cloak۔A poor, No emperor with his tiaras hard-toiling, ill-provided man۔۔۔was obeyed as this man in a cloak of his own clouting۔" (On Heroes, Hero-Worship and the Heroic in History, Lecture Il, page:71) ترجمہ : حضرت محمد (ما ) کی طبیعت کبھی بھی تعیش کی طرف مائل نہ تھی۔یہ ایک بڑی اور عظیم غلطی ہو گی، اگر آپ کے متعلق یہ تسلیم کیا جائے کہ آپ نفس پرست تھے۔آپ کسی قسم کے بھی آرام و عیش کو پسند نہ فرماتے تھے۔آپ کا گھر یلو اسباب بہت ہی معمولی تھا۔آپ کی غذا جو کی روٹی تھی۔بسا اوقات کئی کئی ماہ کا شانہ نبوی میں آگ روشن نہ ہوتی تھی۔تاریخ اسلام میں یہ ایک بڑے فخر کی بات ہے کہ آپ اپنے پاپوش کی خود مرمت فرمالیا کرتے