صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 70
صحیح البخاری جلدی ۷۰ ۶۱ - كتاب المناقب يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرنے لگا۔ وہ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ باتیں مجھے سنا رہا تھا اور میں اس وقت نفل پڑھ رہی لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ تھی۔ پیشتر اس کے کہ میں اپنی نماز ختم کرتی ، اُٹھ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ کر چلا گیا؛ اور اگر میں اس کو پالیتی تو میں اس کو كَسَرْدِكُمْ۔ طرفه: ۳۵۶۷ ٹوکتی کہ رسول اللہ صلی اللہ تم تو ایسے نہیں تھے کہ جلدی جلدی باتیں کرتے جیسا کہ تم کرتے ہو۔ تشریح: صفة النبي : اس عنوان سے مراد جسمانی صورت شکل اور خلق کا بیان ہے۔ باب ہذا کے تحت ستائیس روایتیں ہیں۔ روایت نمبر ۳۵۴۲ تا ۳۵۵۳ نیز نمبر ۳۵۵۸، ۳۵۶۱، ۳۵۶۵، ۳۵۶۶ آپ کے ظاہری حلیہ سے متعلق ہیں۔ روایت نمبر ۳۵۴۶ میں عَنْفَقَہ کی سپیدی کا ذکر جو وارد ہوا ہے اس سے وہ حصہ زیر لب مراد ہے جو اردو بول چال میں ریش بچہ کہلاتا ہے۔ اس میں چند بال سفید تھے۔ روایت نمبر ۳۵۵۲ میں شیخ نما چہرے کا ذکر ہے جسے اردو میں کتابی چہرہ کہتے ہیں اور گول چہرے کو مہتابی چہرہ کہنا مناسب ہو گا۔ زیر باب روایات میں آپ کا جو حلیہ بیان ہوا ہے ، مناسب ہے کہ اس کو یکجا نقل کر دیا جائے۔ درمیانہ قد نہ بہت دراز قامت اور نہ کوتاہ، سڈول جسم ۔ نہ فربہ نہ لاغر، ہتھیلیاں نرم، سینہ کشادہ، مهتابی خوبصورت چہرہ نقش و نگار نکھرے ہوئے ، روشن اور باوقار ، خوش خوشی و غم یا رضامندی یا ناراضگی کا اثر آپ کے چہرے سے پہچانا جاتا، آنکھیں شرمیلی اور پر حیا، رنگ گورا سرخی مائل ۔ نہ بہت سفید اور نہ گندم گوں، سر کے بال سیدھے قدرے خم دار - نہ گھنے نہ گھنگھریالے، سیاہ مگر خوشبو استعمال کرنے کی وجہ سے قدرے سرخی، عام طور پر اتنے لمبے کہ کان کی نوک کو چھوتے تھے اور کبھی نہ کٹوانے کی صورت میں گردن تک، ساٹھ سال کی عمر میں کوئی کوئی بال ہی سفید تھا۔ سر اور داڑھی میں چند گنتی کے بال سفید تھے۔ کوئی میں عد دبال سفید تھے۔ چاہیں چالیس سال کی عمر میں آپؐ پر وحی نازل ہوئی۔ اس کے بعد تیرہ سال مکہ میں اور دس سال مدینہ میں فرائض رسالت ادا کئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق تریسٹھ سال آپ کی عمر تھی۔ (روایت نمبر ۳۵۳۶) گفتگو نرم اور آہستہ یعنی ٹھہر ٹھہر کر۔ آپ ہر امر میں سہولت پسند فرماتے تھے۔ اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا مگر الہی حدود کی ہتک برداشت نہ کرتے۔ مجالس میلاد نبوی اور محافل شب معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرنے میں جو رنگ اختیار کیا جاتا ہے، اس میں سراسر غیر قوموں کی تقلید و نقل پائی جاتی ہے بالخصوص منظومات میں۔ یہ طریق