صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 62
صحیح البخاری جلد عَنْ أَبِيْهِ إِلَى مَنْكِبَيْهِ۔اطرافه: ۵۸۴۸، ۵۹۰۱ ۶۲ ۶۱ - كتاب المناقب اپنے باپ سے یہ حدیث نقل کی۔انہوں نے یوں کہا: آپ کے (بال) مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔٣٥٥٢ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۳۵۵۲: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر نے زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سُئِلَ ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق سے روایت ہے۔انہوں الْبَرَاءُ أَكَانَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نے کہا: حضرت بر اٹھ سے پوچھا گیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح (لمبا) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ قَالَ لَا بَلْ تھا۔انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح (گول اور چمکدار۔) مِثْلَ الْقَمَرِ۔٣٥٥٣: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مَنْصُورٍ :۳۵۵۳ حسن بن منصور ابو علی نے ہم سے بیان أَبُو عَلِيّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ کیا کہ حجاج بن محمد اعور نے مصیصہ (شہر ) میں ہم الْأَعْوَرُ بِالْمَصَيْصَةِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔حکم سے مروی الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ قَالَ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو جحیفہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دوپہر کے وقت (سخت گرمی میں ) بطحاء کی طرف وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ نکلے۔آپ نے وضو کیا پھر ظہر کی دو رکعتیں ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ پڑھیں اور عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ۔قَالَ شُعْبَةُ سامنے برچھی (سترہ کے طور پر) گڑی ہوئی تھی۔وَزَادَ فِيْهِ عَوْنٌ عَنْ أَبِيْهِ أَبِي جُحَيْفَةَ شعبہ نے کہا: اور عون نے اپنے والد حضرت قَالَ كَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ ابو جیفہ سے اس میں یہ زائد بیان کیا کہ اس برچھی کے ورے عورت بھی گذرتی تھی۔لوگ کھڑے وَقَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوْا يَأْخُذُونَ يَدَيْهِ فَيَمْسَحُوْنَ بِهِمَا وُجُوْهَهُمْ قَالَ فَأَخَذْتُ تھے اور آپ کے ہاتھوں کو پکڑتے اور (برکت کے لئے) اپنے چہروں پر ہاتھ پھیرتے۔حضرت بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي ابو جحفہ کہتے تھے: میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ میں نے اس کو اپنے چہرے پر رکھا تو یوں محسوس