صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 60
صحیح البخاری جلد ۶۰ ۶۱ - كتاب المناقب بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِيْنَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ آپ چالیس برس کے تھے۔آپ مکہ میں دس سال وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِيْنَ وَقُبِضَ وَلَيْسَ رہے، اس وقت بھی آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً مدینہ میں بھی دس سال رہے۔آپ کی وفات ہوئی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید بَيْضَاءَ۔قَالَ رَبِّيْعَةُ فَرَأَيْتُ شَعَرًا مِّنْ نہ تھے۔ربیعہ بن ابی عبد الرحمن) نے کہا: میں نے آپ کے بالوں میں سے کچھ بال دیکھے تو کیا دیکھا کہ وہ سرخ ہیں۔میں نے پوچھا تو مجھ سے کہا شَعَرِهِ فَإِذَا هُوَ أَحْمَرُ فَسَأَلْتُ فَقِيْلَ احْمَرَّ مِنَ الطَّيْبِ۔اطرافه : ۳۵۴۸، ۵۹۰۰ گیا: خوشبو لگانے کی وجہ سے سرخ ہو گئے تھے۔٣٥٤٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۳۵۴۸ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ رَبِيْعَةَ بْنِ که مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ربیعہ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ بن ابی عبد الرحمن سے ، ربیعہ نے حضرت انس بن الله أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُوْلُ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے ان سے سنا۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا وسلم نہ تو بہت لمبے تھے اور نہ ہی بہت چھوٹے اور بِالْقَصِيْرِ وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَيْسَ نہ ہی بالکل سفید تھے اور نہ ہی گندمی اور نہ سخت بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا گھنگریالے بال والے جو بالکل مڑے ہوتے ہیں بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللهُ عَلَى رَأْس أَرْبَعِيْنَ اور نہ ہی بالکل سیدھے بالوں والے۔اللہ نے آپ کو چالیس برس کے اخیر میں مبعوث فرمایا سَنَةٌ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِيْنَ اور آپ مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں بھی وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِيْنَ فَتَوَفَّاهُ اللَّهُ دس سال رہے۔پھر اللہ نے آپ کو وفات دی اور وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ اس وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال شَعْرَةً بَيْضَاءَ۔اطرافه: ۳۵۴۷، ۵۹۰۰- بھی سفید نہ تھے۔٣٥٤٩ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ :۳۵۴۹ احمد بن سعید ابو عبد اللہ نے ہم سے بیان