صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 59
صحیح البخاری جلدی ۵۹ ۶۱ - كتاب المناقب ٣٥٤٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ۳۵۴۵: عبد اللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو اسحاق وَهْبٍ أَبِي جُحَيْفَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ ہے ، ابو اسحاق نے حضرت وہب ( بن عبداللہ ) رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو جحیفہ سوائی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: وَرَأَيْتُ بَيَاضًا مِنْ تَحْتِ شَفَتِهِ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور میں نے السُّفْلَى الْعَنْفَقَةَ۔ آپ کے ریش بچہ میں کچھ سفیدی دیکھی۔ ٣٥٤٦ : حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ۳۵۴۶: عصام بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَرِيْزُ بْنُ عُثْمَانَ أَنَّهُ سَأَلَ حریز بن عثمان نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عَبْدَ اللهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ عبد اللہ بن بُسر سے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَأَيْتَ النَّبِيُّ صحابی تھے، کہا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ شَيْخًا کو دیکھا تھا، آپ بوڑھے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے ریش بچہ میں کچھ بال سفید تھے۔ قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيْضٌ۔ ٣٥٤٧ : حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۳۵۴۷: ابن بگیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد ( بن یزید ) سے، بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي خالد نے سعید بن ابی ہلال سے ، سعید نے ربیعہ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ بن ابی عبد الرحمن سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ نبی صلی علیه یم مَالِكِ يَصِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَبْعَةً مِّنَ الْقَوْمِ قد و قامت کے تھے ۔ نہ بہت لمبے اور نہ بہت لَيْسَ بِالطَّوِيْلِ وَلَا بِالْقَصِيْرِ أَزْهَرَ چھوٹے، سفید رنگ کے ، نہ بالکل سفید نہ گندمی، اللَّوْنِ لَيْسَ بِأَبْيَضَ أَمْهَقَ وَلَا آدَمَ نہ آپ بہت گھنگریالے بال والے تھے جو مڑے لَيْسَ بِجَعْدٍ قَطَطٍ وَلَا سَبْطٍ رَجِلٍ ہوئے ہوتے ہیں اور نہ ہی بالکل سیدھے بالوں أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَلَبِثَ والے۔ آپؐ پر اس وقت وحی نازل کی گئی کہ جب کا حلیہ بیان کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ میانہ