صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 51
صحیح البخاری جلد ۵۱ ۶۱ - كتاب المناقب بہت بڑے عظیم الشان نبی کی خبر دیتا ہے جس کے لئے زمین و آسمان پیدا کئے گئے۔ان کے بھائی یعقوب مقدس یا کوئی اور حواری اس کا مصداق نہیں ہو سکتا۔لفظ یعقوب کے معنی ہیں پیچھے آنے والا اور یعقوب نام عبرانی میں مترادف و ہم معنی ہے العاقِب کا۔موجودہ اناجیل اربعہ میں سے مسیح کی ہجرت اور ان کے بعد روح حق کے ظہور اور اس کے تا ابد رہنے اور قبول کئے جانے کی تاکید کا ذکر ہے۔(یوحنا باب ۱۶:۱۴ تا ۳۰) یہ بعد میں آنے والی اور تا ابد رہنے والی روح حق زبان عربی میں انعاقب اور زبان عبرانی میں یعقوب، وہ مقدس انسان ہے جس کی خاطر زمین و آسمان پیدا کئے گئے ہیں۔یوحنا حواری کے حوالے سے یہاں تک لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بہت لمبی عمر پائی۔جس سے ظاہر ہے کہ وہ صلیبی موت سے بچائے گئے اور کسی دوسرے ملک کی طرف ہجرت کی۔"So, likewise, he was an old man for old men۔۔۔Now, that the first stage of early life embraces thirty years, and that this extends onwards to the fortieth year, every one will admit; but from the fortieth and fiftieth year a man begins to decline towards old age, which our Lord possessed while he still fulfilled the office of a teacher۔۔۔those who were conversant in Asia with John, the disciple of the Lord [affirming] that John conveyed to them Some of them moreover, saw not only John, but the that information۔other apostles also, and heard the very same account from them, and bear testimony as to the [validity of] the statement۔" (Irenaeus, Against Heresies, Book 2, Chapter 22: 4-5) ترجمہ: چنانچہ اسی طرح وہ بوڑھوں کے لیے ایک بوڑھا تھا۔اب جیسا کہ ابتدائی زندگی کا پہلا مرحلہ تیں برس کی عمر سے تعلق رکھتا ہے اور جیسا کہ یہ چالیس برس کی عمر تک محیط ہوتا ہے۔ہر کوئی اس بات کا اقرار کرے گا۔لیکن چالیسویں برس سے ایک آدمی بڑھاپے کی طرف مائل ہوناشروع ہو جاتا ہے جو سید نا کی عمر تھی جبکہ وہ ابھی تک استاد کے منصب کو ادا کر رہے تھے۔وہ جو ایشیاء میں یوحنا شاگر دسیدنا سے ہم کلام رہے۔(وہ تائید کرتے ہیں) کہ یہ معلومات ان کو یوحنا نے دیں ان میں سے بعض نے ( یعنی وہ جو یہ تعلیم دیتے ہیں۔ناقل ) صرف یوجنا کو ہی نہیں بلکہ دوسرے شاگردوں کو بھی دیکھا ہے اور ان سے بھی یہی بات سنتی ہے۔اور اس بیان کی صداقت پر گواہی دی ہے۔مستشرقین گرانٹ (Grant) اور فریڈ مین (Freedman) وغیرہ نے بھی یوحنا حواری کے حوالے سے حضرت عیسی علیہ السلام کی لمبی عمر کا ذکر کیا ہے۔مستشرقین کی کتابیں جو میری ذاتی لائبریری میں تھیں بوقت میری