صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 50 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 50

صحیح البخاری جلد ۵۰ ۶۱ - كتاب المناقب رکھا۔جہاں تک اسمائے الہیہ کا مظہر اتم ہونے کا تعلق ہے، آپ کے مذکورہ بالا پانچ ناموں کے علاوہ بہت سے وصفی نام ہیں۔آپ صفات علیم و بصیر کے بھی مظہر تھے اور قدرت عمل رکھنے کی وجہ سے آپ صفت قدیر کے بھی مظہر تھے اور جو وسیع علم غیب آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوا تھا، آپ صفت عالم غیب کے بھی مظہر تھے جیسا کہ آپ کی آئندہ زمانہ سے متعلق بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو دور دراز اخبار پر مشتمل ہیں وعلى هذا القیاس۔باقی صفات الہیہ سے بحیثیت شان مظہریت متصف ہونے کی وجہ سے آپ کے بہت سے وصفی نام ہیں۔جن کا مذکورہ بالا روایت میں ذکر نہیں۔اس لئے عنوانِ باب مَا جَاء فِي أَسْمَاءِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے قائم کر کے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کے یہ پانچ نام وہ ہیں جو روایت زیر باب میں منقول ہیں۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ آپ کے صرف یہی پانچ نام ہیں بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ یہ وہ نام ہیں جن کی نشاند ہی سابقہ انبیاء بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں میں کی جاچکی ہے۔محمد اور احمد نام مشہور ہیں () ماحی کے معنی ہیں کفر منانے والا۔حاشر کے معنی ہیں متفرق قوموں کو اکٹھا کرنے والا اور عاقب کے معنی ہیں پیچھے آنے والا۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے بعد میں آنے والے نبی کی نسبت کھلے الفاظ میں پیشگوئی کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ روحِ حق ساری سچائی بیان کرے گی۔(یوحنا کی انجیل، باب ۱۵ : ۲۶) جس کی وجہ سے وہ صادق نام سے بھی پکارا گیا ہے۔مستشرقین کو مسلم ہے کہ اناجیل اربعہ زیادہ تر سنی سنائی روایتوں سے مرتب کی گئی ہیں اور ان میں بہت کچھ خلط ملط واقع ہوا ہے۔تاہم ان میں اس نبی آخر زمان صادق کی خبر موجود ہے۔ایک قبطی انجیل جو حال میں وادی نیل کے کھنڈرات سے برآمد ہوئی ہے اور تو ما حواری کی طرف منسوب ہے اور یہ قدیم ترین دستاویز ہے جو ۱۴۰ء میں یونانی نسخہ سے ترجمہ کی گئی تھی۔اور یونانی نسخہ آرامی زبان والے نسخہ انجیل سے صدی اول عیسوی کے نصف میں ترجمہ کی گئی تھی۔اس سے قبطی نسخے کی قدامت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔اس انجیل میں واضح طور پر منقول ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام دور دراز ملک کی طرف جاتے وقت اپنے شاگردوں کو ان کے دریافت کرنے پر نصیحت کر گئے تھے کہ ان کے پیچھے آنے والے نبی صادق کی طرف رجوع کیا جائے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔انہوں نے فرمایا: جہاں کہیں سے بھی تم آؤ یعقوب صادق کی طرف رجوع کرو جس کی خاطر زمین و آسمان بنائے گئے ہیں۔(The Nag Hammadi Library, The Gospel of Thomas, saying:12, page:127) عیسائی اس سے وہ یعقوب مراد لیتے ہیں جو یوسف نجار کی اولاد اور حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے تھے اور اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے۔وہ نیک تھے اور مقدس ان کا لقب تھا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی غیر حاضری میں حواریوں کے نگران ہوئے۔لیکن جو وصف اس قبطی انجیل میں بیان کیا گیا ہے وہ کسی | اس تعلق میں دیکھئے غزل الغزلات باب ۵: ۱۶۔نیز دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۷۹،۷۸۔