صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 49 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 49

صحیح البخاری جلد ۴۹ ۶۱ - كتاب المناقب الله بي وَسَلَّمَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں اور احمد ہوں، میں ماحی الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي یعنی مٹانے والا ہوں جس کے ذریعہ سے اللہ کفر کو يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا مٹائے گا، میں حاشر ہوں یعنی اکٹھا کرنے والا، جس کے قدموں پر لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور میں عاقب ہوں یعنی سب سے پیچھے آنے والا۔الْعَاقِبُ۔طرفه: ۴۸۹۶ ٣٥٣٣ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۵۳۳: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ البوزناد سے ، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ فرمایا: کیا تمہیں تعجب نہیں کہ اللہ قریش کی يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ گالیوں اور ان کی لعنتوں کو مجھ سے کیونکر دور يَشْتِمُوْنَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُوْنَ مُذَمَّمًا وَأَنَا کرتا ہے۔وہ مذمم (مذمت کیا ہوا) کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں حالانکہ مُحَمَّدٌ۔میں تو محمد ہوں۔تشریح: مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ رَسُولِ اللهِ ال عنوان باب سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کی نسبت جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، وہ نام روایت نمبر ۳۵۳۲ میں مذکور ہیں جو صفاتی نام ہیں۔محمد کے معنی ہیں غایت درجہ سراہا گیا اور احمد کے معنی ہیں غایت درجہ حمد کرنے والا۔اسی طرح ماحی، حاشر اور عاقب بھی جو اسم فاعل ہیں اور وصف پر دلالت کرتے ہیں۔غرض یہ پانچوں نام اسماء و صفیہ ہیں۔ان میں سے محمد نام وہ ہے جو بوقت پیدائش آپ کے دادا وغیرہ کی طرف سے رکھا گیا تھا اور توریت وانجیل کی پیشگوئی میں آپ کا جو نام بتایا گیا ہے اس میں بھی حمد کا مفہوم پایا جاتا ہے۔محمد اور احمد دو نام اسماء متقابلہ میں سے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی غایت درجہ حمد کرنے کی وجہ سے آپ احمد کہلائے جو صیغہ افعل التفضیل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس غایت درجہ حمد کرنے کی وجہ سے آپ کا نام محمدؐ یعنی سراپا ستائش