صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 46 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 46

صحیح البخاری جلدی ۶۱ - كتاب المناقب ابوبکر حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے ، عقیل نے شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ حضرت ابو وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامٍ مِنّى رضی اللہ عنہ منی کے دنوں میں ان کے ہاں آئے تُغَنِيَانِ وَتُدَقِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَالنَّبِيُّ اور اس وقت ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍ بِثَوْبِهِ اوڑھے ہوئے تھے تو حضرت ابو بکر نے ان کپڑا اوڑ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ دونوں کو جھڑ کا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ابوبکر ان کو رہنے دو فَقَالَ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ کیونکہ یہ عید کے دن ہیں اور وہ منی (یعنی دسویں، عِيدٍ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ أَيَّامُ مِنِّى۔ اطرافه : ۹۴۹ ، ۹۵۲، ۹۸۷، ۲۹۰۶، ۳۹۳۱ گیارھویں اور بارھویں ذوالحجہ ) کے دن تھے۔ ٣٥٣٠ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ۳۵۳۰ اور حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا في صلى اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ مجھے پردہ کئے أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ فِي ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے تو حضرت عمرؓ نے ان الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ حبشیوں کو ڈانٹا۔ تونی کو ڈانٹا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم نے فرمایا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ أَمْنًا انہیں کھیلنے دو۔ بنی ارفدہ بے فکر ہو کر کھیلتے جاؤ۔ بَنِي أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنَ الْأَمْنِ۔ آپ نے امنا جو فرمایا تو اس سے آپ کی یہ مراد تھی کہ تمہیں کوئی ڈر نہیں، امن سے کھیلتے رہو۔ اطرافه ۴۵۴، ۴۵۵ ، ۹۵۰، ۹۸۸، ۲۹۰۷، ۵۱۹۰، ۵۲۳۶ تشریح : قِصَّةُ الحُبَشِ: اس باب کا تعلق بھی ؟ آنحضرت کی طرف ابھی بلحاظ مضمون باب ۱۳ کے مضمو دن باب ۱۳ کے مضمون سے ہے۔ آ ارفدہ سے مخاطب فرمایا۔ انہیں ان کی قوم کی صلی اللہ وسلم نے کھیلنے والے حبشیوں کو بنی ارفده منسوب کیا گیا ہے جن کا جد امجد ارفدہ نامی شخص تھا۔ عید کے موقع پر ان لوگوں نے جنگی قسم کے کرتب دکھائے۔