صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 45
صحیح البخاری جلدی ۴۵ ۶۱ - كتاب المناقب باب ۱۳ کے تحت ایک روایت روایت حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابوہریرہ کی وَقَالَ سے بطور معطوف در معطوف نقل کی گئی ہے جو کتاب احادیث الانبیاء باب ۸ و باب ۱۹ میں گذر چکی ہے۔ اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے نسب نامہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد حضرت براء بن عازب کی روایت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ، اس کے لیے دیکھئے کتاب الجہاد باب ۶۱ ۔ مذکورہ بالا دو حوالوں کے علاوہ ایک روایت بھی مروی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ انذار و تلقین و نصیحت کے موقع پر کسی کو اس کے خاندان کی نسبت سے مخاطب کرنا جائز ہے تا اس کے جذبات ، عزت اور خاندانی غیرت سے اپیل کر کے نیک راہ اختیار کرنے کی تحریک کی جاسکے۔ اس باب کا اگلے ابواب نمبر ۱۴، ۱۵ سے بلحاظ مضمون تعلق ہے۔ اس میں انتساب کی ناجائز صورت بیان ہوئی ہے اور اگلے ابواب میں جائز صورت۔ اس طرح مضمون بلحاظ نفی و اثبات مکمل ہے۔ بَاب ١٤ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ کسی قوم کا بھانجا یا اس قوم کا آزاد کردہ غلام بھی انہی میں سے ہے ٣٥٢٨: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۳۵۲۸: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ هَلْ انصار کو بلایا اور فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوْا لَا إِلَّا جو تم میں سے نہ ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں ابْنُ أُخْتٍ لَّنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى سوائے ہماری ایک بہن کے بیٹے کے۔ رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا بھی انہی مِنْهُمْ۔ میں سے ہوتا ہے۔ أطرافه: ۳۱۴۶، ۳۱۴۷، ۳۷۷۸، ۳۷۹۳، ۴۳۳۱، ۴۳۳۲، ۴۳۳۳، ۴۳۳۴، ۴۳۳۷، ۵۸۶۰، ۶۷۶۲ ، ۷۴۴۱ بَاب ١٥ : قِصَّةُ الْحَبَشِ حبشیوں کا واقعہ وَقَوْلُ النَّبِي لا يَا بَنِي أَرْفِدَةَ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: اے بنی ارفدہ! ٣٥٢٩: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۳۵۲۹: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث