صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 44 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 44

صحیح البخاری جلدی بم بهم ۶۱ - كتاب المناقب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْهُمْ قَبَائِلَ قَبَائِلَ۔ خاندان کے لوگوں کو جو قریبی رشتہ دار ہوں، خطرے سے آگاہ کرو؛ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اطرافه ۱۳۹۴ ، ۳۵۲۵، ۴۷۷۰، ۴۸۰۱، ۴۹۷۱، ۴۹۷۲، ۴۹۷۳ ایک ایک قبیلہ کا نام لے کر پکارنے لگے۔ ٣٥٢٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۵۲۷: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں بتایا کہ ابوز ناد نے ہمیں خبر دی۔ انہوں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بَنِي عَبْدِ مَنَافِ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ نے فرمایا: اے عبد مناف کے بیٹو! اللہ سے اپنی مِنَ اللَّهِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوا جائیں خرید لو۔ اے عبدالمطلب کے بیٹو! اللہ أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ سے اپنی جانیں خرید لو۔ اے زبیر بن عوام کی عَمَّةَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ماں! رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ محمد کی بیٹی! يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا تم دونوں بھی اللہ سے اپنی جانیں خرید لو۔ میں تمہارے لئے اللہ کے مقابل کچھ اختیار نہیں مِنَ اللَّهِ لَا أَمْلِكُ لَكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا رکھتا۔ تم دونوں میرے مال سے جو تم چاہو ، مانگو۔ سَلَانِي مِنْ مَّالِي مَا شِئْتُمَا ۔ اطرافه: ۲۷۵۳، ۴۷۷۱ تشريح : مَنِ انْتَسَبَ إِلَى آبَاء في الإسلام : آباؤ اجداد کی طرف جس قسم کا انتساب ناجائز ہے، وہ فخریہ انتساب ہے جو زمانہ جاہلیت میں عربوں کے درمیان رائج تھا۔ انتساب علی الاطلاق نا جائز نہیں۔ تعارف کی غرض سے اپنے خاندان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اس تعلق میں امام احمد بن حنبل اور ابو یعلی نے ایک حدیث نبوی نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءِ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِرًّا وَكَرَمًا فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ ) جس شخص نے عزت اور بڑائی کے ارادے سے نو کا فرباپ دادوں کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا، وہ آگ میں دسواں ہو گا۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۷۴) (مسند احمد بن حنبل، مسند الشاميين حديث أبي ريحانة، جزء ۴ صفحه (۱۳۴) (مسند أبي يعلى الموصلي، مسند أبي ريحانة، جزء ۳ صفحه ۲۸)