صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 39 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 39

صحیح البخاری جلدی ۳۹ ۶۱ - كتاب المناقب إِلَى هَذَا الرَّجُلِ كَلَّمْهُ وَأَتِنِي بِخَبَرِهِ اور آپ سے ملا۔ پھر واپس آگیا۔ میں نے پوچھا: کیا خبر لائے؟ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم ! میں نے ایک فَانْطَلَقَ فَلَقِيَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَقُلْتُ مَا ایسا شخص دیکھا ہے جو اچھی بات کا حکم کرتا ہے اور ، اس سے کہا: عِنْدَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا بری بات سے روا روکتا ہے۔ میں نے اس يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ وَيَنْهَى عَنِ الشَّرِ فَقُلْتُ اس خبر نے میری تسلی نہیں کی۔ آخر میں نے ایک لَهُ لَمْ تَشْفِنِي مِنَ الْخَبَرِ فَأَخَذْتُ تو شه دان اور چھڑی لی اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ جِرَابًا وَعَصًا ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَى مَكَّةَ میں کسی کو نہیں پہچانتا تھا اور میں ناپسند کرتا تھا کہ آنحضرت صلی اللی ایم کے متعلق کسی سے) پوچھوں اور فَجَعَلْتُ لَا أَعْرِفُهُ وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْأَلَ میں زمزم کے پانی سے پیتا تھا اور مسجد میں رہتا تھا۔ عَنْهُ وَأَشْرَبُ مِنْ مَّاءِ زَمْزَمَ وَأَكُوْنُ وہ کہتے تھے: اتنے میں حضرت علی میرے پاس فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَمَرَّ بِي عَلِيٌّ سے گذرے اور کہا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص فَقَالَ كَأَنَّ الرَّجُلَ غَرِيْبٌ قَالَ قُلْتُ مسافر ہے۔ کہتے تھے: میں نے کہا: ہاں۔ حضرت علی نے کہا: تو پھر گھر چلیں؟ کہتے تھے: میں ان کے نَعَمْ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَى الْمَنْزِلِ قَالَ ساتھ چلا گیا۔ وہ مجھ سے کسی بات کے متعلق نہیں فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ لَا يَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ پوچھتے تھے اور میں ان کو کچھ نہ بتاتا تھا۔ جب میں وَلَا أُخْبِرُهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ صبح کو اُٹھا تو میں سویرے ہی مسجد کو چلا گیا تا کہ آنحضرت اللہ رت صلی علیہ کام کے متعلق پوچھوں اور کوئی بھی مجھے إِلَى الْمَسْجِدِ لِأَسْأَلَ عَنْهُ وَلَيْسَ ان کے متعلق کچھ نہیں بتاتا تھا۔ کہتے تھے: پھر أَحَدٌ يُخْبِرُنِي عَنْهُ بِشَيْءٍ قَالَ فَمَرَّ حضرت علی میرے پاس سے سے گزرے اسے ے اور کہنے لگے : بِي عَلِيٌّ فَقَالَ أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ اس شخص سے ابھی اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اپنا ٹھکانہ يَعْرِفُ مَنْزِلَهُ بَعْدُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ پہچانے کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے انْطَلِقْ مَعِي قَالَ فَقَالَ مَا أَمْرُكَ کہا: میرے ساتھ چھیں۔ کہتے تھے: پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا: آپ کا کیا کام ہے؟ کیا غرض آپ کو وَمَا أَقْدَمَكَ هَذِهِ الْبَلْدَةَ قَالَ قُلْتُ اس شہر میں لائی ہے؟ کہتے تھے: میں نے ان سے لَهُ إِنْ كَتَمْتَ عَلَيَّ أَخْبَرْتُكَ قَالَ :کہا: اگر آپ میری بات پوشیدہ رکھیں تو میں آپ کو