صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 38
صحیح البخاری جلدی ۳۸ ۶۱ - كتاب المناقب وصیلہ بھی نذر کی اونٹنی تھی۔ جب وہ مسلسل سات مادہ بچے جنتی ۔ لفظ وصل میں پے در پے جننے کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اگر ساتویں دفعہ وہ دو بچے نر و مادہ جنتی تو یہ دونوں بچے بھی کسی بت کے نام پر آزاد چھوڑ دیئے جاتے تھے اور وہ بھی وصیلہ کہلاتے۔ (لسان العرب، وصل) حام کا نام حَمَى يَحْمِی سے اسم فاعل ہے۔ حمّی کے معنی ہوتے ہیں اس نے بچایا۔ اخمی کے معنی ہیں حمایت اور حفاظت میں لے لیا۔ حامی اس نراونٹ کو کہتے ہیں جس نے اپنی پیٹھ سواری وغیرہ کے بوجھ سے محفوظ کر لی۔ یہ وہ اونٹ ہوتا تھا جس کی نسل در نسل جننے کے قابل ہو جاتی۔ اس کا کان چیر کر وہ کسی بت کے نام آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس بات کی آزادی ہوتی کہ خواہ یہ جانور کھیتوں کو اجاڑیں یا کسی بچے وغیرہ کو مسل دیں۔ اور اگر ایسا واقعہ ہوتا تو اس کے مالک سے پوچھا نہ جاتا۔ (لسان العرب، حمي) یہ نمونہ ہے بشری قانون سازی کا جو وحی الہی کی روشنی سے خالی تھی۔ ضرورت تشریع ربانی ہی کے سیاق میں سائبہ ، بحیرہ، وصیلہ اور حام کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیکھئے سورۃ المائدہ، آیت ۱۰۴ ۔ بَاب ۱۰ : قِصَّةُ إِسْلَامِ أَبِي ذَرِّ الْغِفَارِيِّ رَضَيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اسلام کا واقعہ بَاب ۱۱ : قِصَّةُ زَمْزَمَ زمزم کا قصہ ٣٥٢٢ : حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابْنُ ۳۵۲۲: زید نے جو اخرم کے بیٹے ہیں ہم سے بیان أَحْرَمَ قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ کیا کہ ابوقیہ مسلم بن قتیبہ نے کہا: منحی بن سعید قصیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابو جمرہ نے مجھے بتایا۔ وہ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنِي مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ کہتے تھے: حضرت ابن عباس نے ہم سے کہا: کیا الْقَصِيرُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ میں تمہیں ابوذر کے مسلمان ہونے کا واقعہ نہ بتاؤں؟ قَالَ قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُخْبِرُكُمْ ابو جمرہ کہتے تھے : ہم نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیں۔ بِإِسْلَامِ أَبِي ذَرٍ قَالَ قُلْنَا بَلَی قَالَ انہوں نے کہا: ابوذر کہتے تھے: : ابوذر کہتے تھے: میں غفار قبیلے سے ایک شخص تھا۔ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص مکہ میں قَالَ أَبُو ذَرٍ كُنْتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میں نے اپنے فَبَلَغَنَا أَنَّ رَجُلًا قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ بھائی سے کہا: اس شخص کے پاس جاؤ اور اس سے يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقُلْتُ لِأَخِي انْطَلِق باتیں کرو اور پھر مجھے اس کا حال بتاؤ۔ چنانچہ وہ چلا گیا