صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 38 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 38

صحیح البخاری جلد ۳۸ ۶۱ - كتاب المناقب وصيلة بھی نذر کی اونٹنی تھی۔جب وہ مسلسل سات مادہ بچے جنتی - لفظ وَصَلَ میں پے در پے جنے کا پایا جاتا ہے اور اگر ساتویں دفعہ وہ دو بچے نر و مادہ جنتی تو یہ دونوں بچے بھی کسی بت کے نام پر آزاد چھوڑ دیئے جاتے تھے اور وہ بھی وصیلہ کہلاتے۔(لسان العرب، وصل) حام کا نام حَمّى يَحْمِی سے اسم فاعل ہے۔حَمّی کے معنی ہوتے ہیں اس نے بچایا۔آخمی کے معنی ہیں حمایت اور حفاظت میں لے لیا۔حامی اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس نے اپنی پیٹھ سواری وغیرہ کے بوجھ سے محفوظ کرلی۔یہ وہ اونٹ ہو تا تھا جس کی نسل در نسل جننے کے قابل ہو جاتی۔اس کا کان چیر کر وہ کسی بت کے نام آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس بات کی آزادی ہوتی کہ خواہ یہ جانور کھیتوں کو اجاڑیں یا کسی بچے وغیرہ کو مسل دیں۔اور اگر ایسا واقعہ ہوتا تو اس کے مالک سے پوچھا نہ جاتا۔(لسان العرب، حمي) یہ نمونہ ہے بشری قانون سازی کا جو وحی الہی کی روشنی سے خالی تھی۔ضرورت تشریع ربانی ہی کے سیاق میں سائبه، بحیرہ، وصیلہ اور حام کا ذکر کیا گیا ہے۔دیکھئے سورۃ المائدہ، آیت ۱۰۴۔بَاب ١٠: قِصَّةُ إِسْلَامِ أَبِيْ ذَرِ الْغِفَارِيِّ رَضَيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اسلام کا واقعہ بَاب ۱۱ : قِصَّةُ زَمْزَمَ زمزم کا قصہ ٣٥٢٢ حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابْنُ ۳۵۲۲ : زید نے جو اخترام کے بیٹے ہیں ہم سے بیان أَخْزَمَ قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بنُ کیا کہ ابوقتیہ مسلم بن قتیبہ نے کہا: معنی بن سعید قصیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابو جمرہ نے مجھے بتایا۔وہ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنِي مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ کہتے تھے: حضرت ابن عباس نے ہم سے کہا: کیا الْقَصِيْرُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ میں تمہیں ابوذر کے مسلمان ہونے کا واقعہ نہ بتاؤں؟ قَالَ قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ ابوجمرہ کہتے تھے : ہم نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیں۔بِإِسْلَامِ أَبِي ذَرٍ قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ انہوں نے کہا: ابوذر کہتے تھے : میں غفار قبیلے سے ایک شخص تھا۔ہمیں یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص مکہ میں قَالَ أَبُو ذَرّ كُنْتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔میں نے اپنے فَبَلَغَنَا أَنَّ رَجُلًا قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ بھائی سے کہا: اس شخص کے پاس جاؤ اور اس سے يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقُلْتُ لِأَخِي انْطَلِق باتیں کرو اور پھر مجھے اس کا حال بتاؤ۔چنانچہ وہ چلا گیا