صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 37 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 37

صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب وَلَمَّا نَزَلْنَا بَطْنَ مَةٍ تَخَزَعَتْ خُزَاعَةُ مِنَّا فِي جُموعِ كَرَاكِرٍ یعنی جب ہم وادی مر میں اُترے تو خزاعہ ہم سے گروہ در گروہ الگ ہو گئے باب کی پہلی روایت میں عمرو بن لحي خندف کا پڑپوتا بتایا گیا ہے۔خندف نامی عورت الیاس بن مضر کی بیوی تھی۔اس لیے خزاعہ کا مضر قبیلے کے ساتھ تعلق ظاہر ہے۔خندف اسم وصفی ہے۔اس عورت کا پیدائشی نام لیلی تھا اور وہ حلوان ( بن عمران بن الحاف بن قضاعہ) کی بیٹی تھی۔تیز رفتار چلنے کی وجہ سے وہ خندف نام سے مشہور ہوئی۔نیز جب قمعه بن خندف فوت ہوا تو اس کی بیوی نحسی سے حاملہ تھی اور خیال کیا گیا کہ یہ بچوں کو ضائع کر دے گی۔لیکن اس نے انہیں سنبھالا اور ان کی عمدہ پرورش کی۔لحی کی پیدائش کے وقت وہ حارثہ بن عمرو کے نکاح میں تھی۔حارثہ بن عمرو نے حي کو متبنی بنالیا تھا۔اس طرح لحي کو پیدائشی طور پر مضر میں سے اور متبنیٰ ہونے کی وجہ سے اہل یمن میں سے سمجھا گیا ہے۔غرض خزاعہ قبیلہ بوجہ اصل وطن کی نسبت یمنی قبیلہ ہے اور بلحاظ ولادت مضری۔ابن کلبی مؤرخ کی روایت میں ہے کہ عمرو بن لحي کعبہ کا متولی ہوا۔قبیلہ جرہم اور قبیلہ خزاعہ کے درمیان چپقلش اور چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی جس نے رفتہ رفتہ جنگوں کی صورت اختیار کرلی اور بالآخر خزاعہ غالب ہوئے اور بیت اللہ کی نگرانی کا کام ان کے ہاتھ میں آیا۔باب کی دوسری روایت سے ظاہر ہے کہ بیت اللہ میں مشرکانہ رسوم کی بدعت جاری کرنے والا عمرو بن لحي تھا اور قبیلہ خزاعہ نے ان رسوم کو جاری رکھا۔ابن اسحاق کی روایت اس تعلق میں مفصل ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِاكْتَمَ بْنِ الْجُوْنِ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ كُيْ يَجْرُّ قُضَبَهُ فِي النَّارِ۔۔۔لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَيَّرَ دِينَ إِسْمَاعِيلَ فَنَصَبَ الْأَوْثَات وَسَيِّبَ السَّائِبَةَ وَبَجَرَ الْبَحِيرَةً وَوَصَلَ الْوَصِيْلَةَ وَحَمَى الْحَامِي (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۷۰،۶۶۹) رسول اللہ صل الیم نے اکثم بن جون سے فرمایا: میں نے عمرو بن لحي کو دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے اسماعیل کے دین میں تبدیلی کی۔بیت اللہ میں بت نصب کئے، بتوں کے نام پر جانور چھوڑے، جانوروں کے کان کالے اور (وصیله) نرومادہ جننے والی بکری اور (حام) دس بچے جننے والے سانڈ کی رسم جاری کی۔سورۃ المائدة کی آیت ۱۰۴ میں ان مشرکانہ رسوم کا ذکر ہے۔ہندوستان کی ہندو اقوام میں بھی بتوں کے نام پر سانڈ چھوڑنے اور کان کترنے کی رسم موجود ہے۔اولاد کے کان بھی چھیدے جاتے ہیں۔اسلام نے ان مشرکانہ رسوم کو منسوخ فرمایا۔ساب کے معنی ہیں چلا گیا بغیر اس کے کہ وہ کسی معین جہت کا قصد کرے) آوارہ ہو گیا۔سیب اسے یونہی چھوڑ دیا۔سائبة اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو کسی بت کے نام پر بطور نذر چھوڑ دی جاتی تھی اور یہ اس وقت چھوڑی جاتی تھی جب کوئی شخص بیماری سے شفا پاتا یا سفر سے بسلامت گھر کولو فا اور اس وقت بھی اونٹنی چراگاہ میں آزاد چھوڑ دی جاتی تھی جب وہ دس بچے جن لیتی ، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ وہ بطور سواری استعمال ہوتی۔(لسان العرب، سیب)