صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 36
صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب ٣٥٢١ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۳۵۲۱ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيَ قَالَ سَمِعْتُ نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔وہ کہتے سَعِيْدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ الْبَحِيرَةُ تھے: میں نے سعید بن مسیب سے سنا۔انہوں نے کہا: بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيْتِ وَلَا نام پر روک دیا جاتا تھا اور لوگوں میں سے کوئی يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ وَالسَّائِبَةُ بھی اس کو نہ دوہتا تھا اور سائبہ وہ جانور ہے جو وہ الَّتِي يُسَيِّبُوْنَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ اپنے معبودوں کے نام پر چھوڑ دیا کرتے تھے تو عَلَيْهَا شَيْءٌ قَالَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اس پر کوئی بوجھ نہ لادا جاتا۔سعید کہتے تھے: اور قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابوہریرۃ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرِ بْنِ لُحَـيّ نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر بن لحي خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں دوزخ میں گھسیٹ رہا ہے اور وہی پہلا شخص تھا جس نے سائبہ جانور چھوڑے۔الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ۔طرفه: ۴۶۲۳ ریح : قصۂ خُزَاعَةُ : اس باب کے تحت دو روایتیں ہیں۔پہلی روایت میں آنحضرت مئی یم کا قول مذکور ہے کہ خزاعہ قبیلہ کا جد امجد عمرو بن لحي بن قمعه بن خندف تھا۔اس بات میں سب متفق ہیں کہ قبیلہ خزاعہ عمرو بن لحی کی ذریت ہے جو حارثہ بن عمرو بن عامر بن ماء السماء) کا بیٹا تھا اور اسلم جس کا ذکر گذر چکا ہے، عمرو بن نحي کا چچا تھا۔ابن کلبی مورخ کا قول ہے کہ جب سیلاب ارم کی وجہ سے سبائیوں (اصل میمن نے بلادِ یمن سے شمالی سمت کی طرف ہجرت کی تو ان میں سے بنو مازن نے چشمہ غسان کے قریب ڈیرے لگائے اور غسانی کہلائے اور عمرو بن حسی کی اولاد ان سے الگ ہو گئی اور مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس آکر ٹھہرے۔اس علیحدگی کی وجہ سے خزاعہ کہلائے۔اسی طرح دیگر از دی قبائل بھی متفرق ہو گئے۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ (۶۶۹) کہتے ہیں: اخْتَزَعَ عَنِ الْقَوْمِ وَانْخَزَع قوم سے بچھڑ گیا، کٹ گیا۔(لسان العرب - خزع) اس وقت مکہ مکرمہ پر جرہم قبیلہ مسلط تھا۔قبیلہ خزاعہ نے ان پر غلبہ پالیا اور کعبہ کا متولی ہو گیا۔قبیلہ خزاعہ کی نسبت مذکورہ بالا وجہ تسمیہ کہاں تک درست ہے۔امام ابن حجر نے اس تعلق میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر نقل کیا ہے: