صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 439
صحیح البخاری جلدی ۴۳۹ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ هُمْ أَهْلُ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت الْكِتَابِ جَزَّءُوْهُ أَجْزَاءً فَآمَنُوْا بِبَعْضِهِ کی کہ اہل کتاب ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ۔ اطرافه: ۴۷۰۵، ۴۷۰۶ کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی بعض باتیں مانیں اور بعض کا انکار کیا۔ عليه تشريح : اثْيَانُ الْيَهُودِ النَّبِيِّ حِيْنَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ : اس باب میں عاشورہ کے تعلق میں جو روایتیں ہیں وہ کتاب الصوم میں گزر چکی ہیں۔ (دیکھئے تشریح باب ۶۹۔) هَادُوا اور هُدُنَا کا اشتقاق ھود سے ہے۔ ھُدًی یعنی ہدایت سے نہیں؟ گن گناہوں سے تو بہ کرنے والے۔ لفظ هَادُوا کے اشتقاق سے یہود نام کی وجہ تسمیہ بتانا مقصود معلوم ہوتا ہے۔ تورات کی کتاب استثناء باب ۱۵ تا ۳۰ مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے بار ہا نافرمانی کی اور ہر بار انہیں تو بہ کا موقع دیا گیا اور انہوں نے بار بار توبہ کی اور توبہ کرنے کے بعد شرارت کی۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے رحم دل نبی نے انہیں خبیث قوم کے نام سے مخاطب کیا اور جب ان کی ناراضگی پر توبہ کے لئے آمادگی کا اظہار کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے لئے گڑ گڑانے لگے اور معافی کی سفارش کی۔ بَاب ٥٣ : إِسْلَامُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا ٣٩٤٦ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ ۳۹۴۶ : حسن بن عمر بن شقیق نے مجھے بتایا کہ بْنِ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ أَبِي ح۔ معتمر نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے کہا؟ وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ نیز ابو عثمان نے حضرت سلمان فارسی سے الْفَارِسِيِّ أَنَّهُ تَدَاوَلَهُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ان کو دس سے رَّبِّ إِلَى رَبِّ۔ :٣٩٤٧ کچھ زیادہ مالکوں نے ایک دوسرے کے پاس فروخت کیا۔ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ۳۹۴۷ : محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان