صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 433 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 433

صحیح البخاری جلد ۴۳۳ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حضرت عبد الرحمن بن عوف مدینہ میں آئے تو نبی سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِي فَعَرَضَ عَلى الم نے حضرت سعد بن ربیع انصاری کو آپ کا عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ فَقَالَ بھائی بنایا اور حضرت سعد نے ان کے سامنے یہ عَبْدُ الرَّحْمَن بَارَكَ اللهُ لَكَ فِی پیش کیا کہ وہ ان کو اپنی بیویاں اور مال آدھا آدھا أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلَّنِي عَلَى السُّوقِ بانٹ دیتے ہیں۔حضرت عبد الرحمن نے کہا: اللہ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَرَآهُ تمہیں تمہاری بیویوں اور مال میں برکت دے۔تم النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مجھے بازار کا پتہ بتاؤ۔چنانچہ حضرت عبدالرحمن أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ بازار سے کچھ کھویا اور گھی نفع میں لائے۔نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ عَلى الم نے انہیں کچھ دنوں کے بعد دیکھا اور ان يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ پر زردی کے دھبے تھے۔نبی صلی الی یکم نے پوچھا: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَمَا عبد الرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! سُقْتَ فِيْهَا فَقَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے۔آپ نے پوچھا: اس کو کیا کچھ مہر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گٹھلی برابر سونا۔نبی صلی ا ہم نے أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ۔فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے ہی۔اطرافه: ۲۰۴۹، ۲۲۹۳، ۳۷۸۱، ۵۰۷۲، ۵۱۴۸، ۵۱۵۳، ۵۱۵۵، ۵۱۶۷، ۶۰۸۲، ۶۳۸۶ باب ٥١ ۳۹۳۸ : حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ عَنْ :۳۹۳۸ حامد بن عمر نے مجھے بتایا کہ بشر بن مفضل بِشْرِ بْن الْمُفَضَّل حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: حمید (طویل) نے ہم سے بیان کیا۔حضرت انس نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ حضرت عبد اللہ بن سلام کو خبر پہنچی کہ نبی صلی ام بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مدینہ میں آئے ہیں، وہ آنحضرت صلی ایم کے پاس وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَاهُ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ آپ سے کچھ باتیں پوچھنے کے لئے آئے۔انہوں