صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 432
صحیح البخاری جلدے ۴۳۲ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار شرح: قَوْلُ النّبي الا اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِ هِجْرَقَهُمُ۔۔۔آنحضرت نے ہجرت کے لئے جو قدم اُٹھایا تھا، ضحاک وغیرہ نے اس تعلق میں ارشاد باری تعالیٰ وَقُل ذَبٍ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ اخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ فِى مِن لَدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا (بنی اسرائیل: ۸۱) { اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے اس طرح داخل کر کہ میرا داخل ہونا سچائی کے ساتھ ہو اور مجھے اس طرح نکال کہ میر انکلنا سچائی کے ساتھ ہو اور اپنی جناب سے میرے لیے طاقتور مددگار عطا کر} سے یہ لطیف استنباط کیا کہ اس میں مکہ سے نکلنے اور دوبارہ کامیاب صورت میں فاتحانہ طور پر اس میں داخل ہونے کی پیشگوئی مضمر ہے۔(معالم التنزيل، تفسير سورة الاسراء آیت ۸۰) روایت زیر باب سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی مہاجرین کے لئے بھی یہی دعا کی کہ ان کی ہجرت بر قرار رہے اور اس میں کسی قسم کا رختنہ پیدا نہ ہو۔نہ ان کی نیت میں تبدیلی ہو اور نہ ان کے پائے ثبات میں کوئی جنبش۔باب ٥٠ : كَيْفَ آحَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کس طرح آپس میں بھائی بھائی بنایا وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ آخی اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے تھے کہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سعد بن ربیع وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ لَمَّا قَدِمْنَا (انصاری) کو جب ہم مدینہ میں آئے بھائی بھائی الْمَدِينَةَ۔وَقَالَ أَبُو جُحَيْفَةَ آخى بنایا۔حضرت ابو جحیفہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ علیہ وسلم نے سلمان اور ابو الدرداء کو آپس میں سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ۔بھائی بھائی بنایا۔۳۹۳۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ :۳٩۳۷: محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ انہوں نے حمید (طویل) سے، حمید نے حضرت بْنُ عَوْفٍ {الْمَدِينَةَ} فَآحَى النَّبِيُّ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ا لفظ الْمَدِينَة بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی کے مطابق ہے۔(جلد اول صفحہ ۵۶۱)