صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 430
صحیح البخاری جلدے ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ادبار و زوال میں اور عالم مایوسی میں ایک عظیم الشان خوش کن انقلاب پیدا کر سکتے ہیں صرف نیت و ارادہ میں نیک تبدیلی اور عمل پیہم کی ضرورت ہے۔آنحضرت صلی الم کا ارشاد ہے انما الْأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ۔اسلام ایک پر حکمت و پُر معانی دین ہے جو ایک معین قانون پر مبنی ہے۔اسے باز بچہ ہوا و ہوس بنانے کی اجازت نہیں۔باب ۴۷، ۴۸ کی روایتوں کا تعلق اسی مضمون سے ہے۔امام بخاری نے یہ باب مخصوص ترتیب میں قائم کیے ہیں۔باب ۴۹ کی روایت کا تعلق بھی اس نیت صالحہ سے ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل ہو۔بَاب ٤٩ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَمَرْثِيَتُهُ لِمَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: اے اللہ ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت قائم رکھ اور جو مکہ میں فوت ہو گئے ان کے لئے آپ کا افسوس کرنا ٣٩٣٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ٣٩٣٦: يحجي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا۔ابراہیم حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ عَنْ أَبِيْهِ زہری نے عامر بن سعد بن مالک سے ، عامر نے قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اپنے باپ سے روایت کی کہ حجتہ الوداع کے سال وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ مَّرَضٌ نبی صلی الیکم میری اس بیماری میں میری عیادت کیلئے أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَقُلْتُ آئے کہ جس سے میں موت کے قریب پہنچ گیا تھا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! بیماری نے مجھے اس قدر يَا رَسُوْلَ اللهِ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ نڈھال کر دیا ہے جو آپ د نڈھال کر دیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور میں مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا الدار ہوں اور میرا کوئی وارث نہیں سوائے میری ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةً أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ ایک بیٹی کے۔کیا میں اپنے دو تہائی مال کو صدقہ مَالِي قَالَ لَا قَالَ فَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ میں دے دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔میں نے قَالَ الثُّلُثُ يَا سَعْدُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ کہا: تو کیا اس کا نصف صدقہ میں دے دوں؟ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ آپ نے فرمایا: ایک تہائی دے دو اور ایک تہائی أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُوْنَ النَّاسَ قَالَ بھی بہت ہے اور یاد رکھو! اگر تم اپنی اولاد کو