صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 429 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 429

۶۳ - کتاب مناقب الأنصار صحیح البخاری جلد ۳۹۳۵ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۹۳۵: مسدد نے ہمیں بتایا کہ یزید بن زریع يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔انہوں الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ نے زہری سے، زہری نے عروہ بن زبیر) سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کی۔کہتی تھیں : نماز دو رکعتیں فرض کی گئی تھی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا وَتُرِكَتْ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْأُولَى۔چار رکعتیں فرض کی گئیں اور سفر کی نماز پہلی تعداد پر ہی رہنے دی گئی۔تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَّعْمَرٍ۔یزید بن زریع کی طرح اس بات کو عبد الرزاق اطرافه ۳۵۰، ۱۰۹۰ نے بھی معمر سے روایت کیا۔النَّارِيخُ - مِنْ أَيْنَ أَرَّخُوا التَّارِيخَ : عربوں کے ہاں قمری حساب سے تاریخ شمار تشریح: ہوتی تھی اور اب تک ہے۔مشرک سورج پرست اقوام کے ہاں شمسی حساب سے شمار ہو تا رہا ہے۔دونوں حساب طبعی ہیں۔سورۃ الانعام آیت ۹۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ إِلَيْلَ سَكَنَّا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ صبح کو نکالنے والا ہے اور رات باعث آرام بنائی اور سورج و چاند کو ذریعہ حساب بنایا ہے۔یہ اندازہ ہے اس کا جو غالب ہے (اور ) بہت جاننے والا ہے۔سورۃ الرحمن آیت ۶ میں فرماتا ہے : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسبان سورج اور چاند ایک مقررہ اندازہ سے چل رہے ہیں۔اگر معین اندازہ پر ان دونوں کی گردش منضبط نہ ہوتی کبھی کسی وقت ان کا طلوع و غروب ہوتا اور کبھی کسی وقت تو نا ممکن تھا کہ انسان کے نفس میں اندازوں کا احساس پیدا ہوتا۔اوقات مقررہ پر طلوع آفتاب و ماہتاب ہی سے عربوں اور دوسری قوموں کو تاریخ شماری میں سہولت ہوئی ہے۔اسلام نے اس طبیعی حساب پر اپنی تاریخ کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ اس کا شمار ہجرت مدینہ پر رکھا ہے۔نہ طبعی تبدیلی پر یا پیدائش و فوتیدگی جیسے طبعی واقعات پر سالگرہ یا جشن منایا ہے جیسے عام طور پر یہ دن منائے جاتے ہیں بلکہ ہجرت کے اہم واقعہ سے اپنی تاریخ کا آغاز کیا ہے جو عزم صمیم، بلند ہمت و پختہ ارادہ اور عمل پیہم کی ترجمانی کرتی ہے اور یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کا آغاز نو سال اس شان کا ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند پرواز کا نمونہ ہو۔سال ہجری کو شروع کرتے وقت مسلمان آج بھی اپنی حالت