صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 427
صحیح البخاری جلدی ۴۲۷ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار هَذَا فَقَالُوْا لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے ٹھہراؤ۔ انہوں إِلَّا إِلَى اللَّهِ قَالَ فَكَانَ فِيْهِ مَا أَقُولُ نے کہا: بخدا نہیں۔ ہم اس کی قیمت صرف اللہ لَكُمْ كَانَتْ فِيْهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِيْنَ ہی سے مانگیں گے۔ حضرت انس کہتے تھے : اس وَكَانَتْ فِيْهِ خِرَبٌ وَكَانَ فِيْهِ نَخْلٌ باغ میں یہ کچھ چیزیں تھیں جو میں تمہیں بتاتا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں اور اس وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ میں کچھ کھنڈرات تھے اور اس میں کچھ کھجوروں اور وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ کے درخت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ مشرکوں کی قبروں کی نسبت حکم دیا جو اکھیڑ قَالَ وَجَعَلُوْا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ اکھیڑ ڈالی گئیں اور کھنڈرات کے متعلق فرمایا اور وہ برابر کر دیئے گئے اور کھجوروں کے متعلق فرمایا جو کاٹ دی جَعَلُوْا يَنْقُلُوْنَ ذَاكَ الصَّخْرَ وَهُمْ گئیں۔ آپؐ نے فرمایا: ان کھجوروں کو مسجد کے يَرْتَجِزُونَ وَرَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ سامنے ایک قطار میں رکھ دو۔ کہتے تھے : اور انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُوْلُوْنَ: نے بجائے دروازوں کے تختوں کے پتھر رکھے ۔ کہتے تھے : وہ پتھر ڈھوتے تھے اور یہ رجزیہ شعر پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ پڑھتے۔ کہتے تھے: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ اے اللہ ! حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی بھلائی کے سوا فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَة کوئی بھلائی نہیں۔ تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔ اطرافه : ۲۳۴، ۴۲۸، ۴۲۹، ۱۸۶۸ ، ۲۱۰۶، ۲۷۷۱، ۲۷۷۴، ۲۷۷۹ تشريح : مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ : اس باب اور روایات کا زیادہ تر تعلق صحابہ کرام کی ہجرت سے ہے۔