صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 426
صحیح البخاری جلدے قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ في ۴۲۶ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ۳۹۳۲: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۳۹۳۲ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ نے ہمیں بتایا۔نیز اسحاق بن منصور نے ہم سے بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بیان کیا کہ عبد الصمد نے ہمیں بتایا۔کہا: میں نے قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ حَدَّثَنَا اپنے باپ عبد الوارث ) سے سنا۔وہ بیان کرتے أبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدِ الصُّبَعِيُّ تھے کہ ابو تیاح یزید بن حمید ضبعی نے ہمیں بتایا۔کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا۔کہتے تھے : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے آپ مدینہ کی بلند جانب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ ایک قبیلہ کے محلہ میں اُترے جنہیں بنو عمرو عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيّ يُقَالُ لَهُمْ بن عوف کہتے تھے۔انہوں نے کہا: آپ ان بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ فَأَقَامَ فِيْهِمْ لوگوں میں چودہ راتیں رہے۔پھر آپ نے بنو نجار أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى کے بڑے بڑے لوگوں کو بلا بھیجا۔کہتے تھے: وہ مَلَا بَنِي النَّجَّارِ قَالَ فَجَاءُوْا مُتَقَدِّدِي اپنی تلواروں کو حمائل کئے ہوئے آئے۔کہتے سُيُؤفِهِمْ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى تھے گویا میں اس وقت بھی رسول اللہ صلی الیکم رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو اپنی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں اور حضرت عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفَهُ وَمَلَكُ ابو بکر آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں۔آپ نے آکر حضرت بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوْبَ قَالَ فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ بھی آپ کو نماز کا وقت آجاتا، آپ نماز ادا کرتے أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ اور بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے الْغَتَمِ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ تھے۔کہتے تھے: اس کے بعد آپ نے مسجد بنانے فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا کا ارشاد فرمایا۔آپ نے بنی نجار کے بڑے بڑے فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُوْنِي بِحَائِطِكُمْ لوگوں کو بلا بھیجا۔وہ آئے۔آپ نے فرمایا: بنی نجار ! ابوایوب کے صحن میں ڈیرا ڈالا۔کہتے تھے : جہاں