صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 425 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 425

صحیح البخاری جلدی ۴۲۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ ہشام نے اپنے باپ عروہ سے، ان کے باپ نے كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللهُ عَزَّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی: بعاث وَجَلَّ لِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی جنگ بھی ایسی جنگ تھی جسے اللہ عزوجل فَقَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بطور وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ پیش خیمہ بنایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَقُتِلَتْ سَرَاتُهُمْ فِي دُخُولِهِمْ فِي مدينہ میں تشریف لائے اور حالت یہ الْإِسْلَامِ۔ اطرافه: ۳۷۷۷، ۳۸۴۶ تھی کہ مدینہ والوں کی جمیعت بکھر چکی تھی اور ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے جس کی وجہ سے وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ۳۹۳۱ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۳۹۳۱: محمد بن مثنیٰ نے مجھے بتایا۔ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامٍ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ہشام سے ، ہشام نے اپنے باپ ( عروہ) سے ، ان دَخَلَ عَلَيْهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى حضرت ابو يمر عيدا الاضحی کے دن ان ، ابو بکر عید الفطر یا عید الام وَعِنْدَهَا قَيْنَتَانِ تُغَنِيَانِ بِمَا تَعَارَفَتِ کے پاس آئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان الرحم کے پاس تھے اور اس وقت ان کے پاس دو گانے الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ والیاں ان شعروں کو گارہی تھیں جو انصار نے مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ بعاث کی جنگ میں ایک دوسرے کی ہجو میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمَا یا کہے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے سن کر دو دفعہ کہا: أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيْدًا وَإِنَّ شيطان کی بنسریاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمُ۔ فرمایا: رہنے دو۔ ہر ایک قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ دن ہماری عید کا ہے۔ اطرافه ۹۴۹، ۳۵۲۹،۲۹۰۶،۹۸۷،۹۵۲، ۳۹۳۱