صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 425
صحیح البخاری جلدے ۴۲۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ ہشام نے اپنے باپ عروہ سے، ان کے باپ نے كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللهُ عَزَّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی: بعاث وَجَلَّ لِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی جنگ بھی ایسی جنگ تھی جسے اللہ عزوجل فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بطور وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ پیش خیمہ بنایا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَقُتِلَتْ سَرَاتُهُمْ فِي دُخُولِهِمْ فِي مدینہ میں تشریف لائے اور حالت یہ تھی کہ مدینہ والوں کی جمیعت بکھر چکی تھی اور ان کے الْإِسْلَام۔اطرافه: ۳۷۷، ۳۸۴۶ بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے جس کی وجہ سے وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔:۳۹۳۱ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۹۳۱ محمد بن مثنیٰ نے مجھے بتایا۔غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامٍ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ہشام سے ، ہشام نے اپنے باپ ( عروہ) سے ، ان دَخَلَ عَلَيْهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ حضرت ابو بکر عید الفطر یا عید الاضحی کے دن ان وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى کے پاس آئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان وَعِنْدَهَا قَيْنَتَانِ تُغَنِيَانِ بِمَا تَعَازَفَتِ کے پاس تھے اور اس وقت ان کے پاس دو گانے الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاتٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ والیاں اُن شعروں کو گارہی تھیں جو انصار نے مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ بحث کی جنگ میں ایک دوسرے کی ہجو میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمَا يَا کہے تھے۔حضرت ابو بکر نے سن کر دو دفعہ کہا: أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيْدًا وَإِنَّ شيطان کی بنسریاں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عِيْدَنَا هَذَا الْيَوْمُ۔فرمایا: رہنے دو۔ہر ایک قوم کی عید ہوتی ہے اور اطرافه: ۹۴۹، ۹۵۲، ۳۵۲۹،۲۹۰۶٬۹۸۷، ۳۹۳۱ یہ دن ہماری عید کا ہے۔