صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 424
صحیح البخاری جلدے ۴۲۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ فَاشْتَكَى عُثْمَانُ عِنْدَنَا تھیں کہ حضرت عثمان ہمارے پاس بیمار ہو گئے۔فَمَرَّضْتُهُ حَتَّى تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي میں ان کی تیمار داری کرتی رہی مگر فوت ہو گئے أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى الله اور ہم نے ان کو ان کے کپڑوں ہی میں کفنایا۔نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔میں نے کہا: ابو سائب! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔تمہارے أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ متعلق میری شہادت یہی ہے کہ اللہ نے ضرور أَكْرَمَكَ اللهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تمہیں نوازا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيْكِ أَنَّ اللهَ تمہیں کیا پتہ اللہ نے اسے نوازا ہے؟ کہتی تھی: أَكْرَمَهُ قَالَتْ قُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ کے قربان أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُوْلَ اللهِ فَمَنْ قَالَ أَمَّا میں نہیں جانتی کہ پھر اور کس کو نوازے گا۔هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ وَاللَّهِ الْيَقِيْنُ وَاللَّهِ إِنِّي آپ نے فرمایا: ان کے متعلق کیا کہنا بخدا یہ تو فوت ہو گئے اور ان کے لئے بھلائی ہی کی امید لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَمَا أَدْرِي وَاللَّهِ وَأَنَا رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم! میں بھی نہیں جانتا رَسُوْلُ اللهِ مَا يُفْعَلُ بِي قَالَتْ فَوَاللَّهِ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ مجھ سے کیا کیا لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ قَالَتْ فَأَحْزَنَنِي جائے گا۔کہتی تھیں: اس کے بعد اب میں کسی کو ذَلِكَ فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ (۱) لِعُثْمَانَ عَيْنًا بھی پاک نہیں ٹھہراتی۔کہتی تھیں: اس بات نے تَجْرِي فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ مجھے غمگین کر دیا اور میں سو گئی اور مجھے خواب میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ذَلِكِ حضرت عثمان کا ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہہ رہا تھا۔میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی عَمَلُهُ۔اور آپ سے یہ خواب بیان کیا۔آپ نے فرمایا: یہ ان کا عمل ہے۔اطرافه : ۱۲۴۳ ، ۲۶۸۷، ۷۰۰۳، ۷۰۰۴، ۷۰۱۸- ۳۹۳۰ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ۳۹۳۰ : عبید اللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، 1) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ فریٹ ہے۔(فتح الباری جزوے حاشیہ صفحہ ۳۳۰) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔