صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 423
صحیح البخاری جلد ۴۲۳ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ابْنَ عَبَّاسِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ عبد اللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عباس نے بْنَ عَوْفٍ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنِّى انہیں بتایا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف اپنے فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ فَوَجَدَنِي گھر والوں کے پاس لوٹ گئے اس وقت وہ منی فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ میں تھے۔جبکہ حضرت عمرؓ نے آخری حج کیا۔انہوں نے مجھے دیکھا اور کہا: عبد الرحمن! میں نے الْمُؤْمِنِيْنَ إِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ وَغَوْغَاءَهُمْ وَإِنِّي أَرَى أَنْ کہا: امیر المومنین ! حج کا موسم ہے۔عامی اور شور تُمْهِلَ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَإِنَّهَا دَارُ مچانے والے لوگ بھی اکٹھے ہوتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ مدینہ پہنچنے تک انہیں مہلت الهجْرَةِ وَالسُّنَّةِ وَالسَّلَامَةِ وَتَخْلُص دیں کیونکہ وہ دارالہجرت، سنت اور سلامتی کی لِأَهْلِ الْفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ وَذَوِي جگہ ہے اور آپ وہاں صرف سمجھ دار شریف اور رَأْيِهِمْ قَالَ عُمَرُ لَأَقْوْمَنَّ فِي أَوَّلِ اہل الرائے لوگوں سے جاکر ملیں گے۔حضرت مَقَامٍ أَقُوْمُهُ بِالْمَدِينَةِ۔عمر نے کہا: اچھا پہلی بار مدینہ میں خطبے کے لئے کھڑا ہونے کا جو موقع مجھے ملا، میں اس میں لوگوں ا کو اچھی طرح نصیحت کروں گا۔اطرافه ۳۴۴۵،۲۴۶۲، ۴۰۲۱، ۷۳۲۳،۶۸۳۰،۶۸۲۹ ۳۹۲۹ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۳۹۲۹ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ابراہیم حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ أَخْبَرَنَا بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ابْنُ شِهَابٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ہمیں بتایا۔خارجہ بن زید بن ثابت سے روایت ہے کہ حضرت ام العلاء جو انصار کی عورتوں میں ثَابِتٍ أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ سے ایک خاتون تھی۔انہوں نے نبی صلی اللہ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔انہوں نے ان کو بتایا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَطْعُوْنِ طَارَ کہ حضرت عثمان بن مظعون رہائش کیلئے ان کے لَهُمْ فِي السُّكْنَى حِيْنَ اقْتَرَعَتِ حصہ میں آئے جبکہ انصار نے مہاجروں کی رہائش الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِيْنَ کیلئے قرعے ڈالے تھے۔حضرت ام العلاء" کہتی