صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 420
صحیح البخاری جلدی ۴۴۰ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار النَّاسَ فَقَدِمَ بِلَالٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ کرتے تھے۔ پھر بلال اور سعد ( بن ابی وقاص) يَاسِرٍ ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي اور عمار بن یاسر پھر اس کے بعد حضرت عمر بن عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله خطاب نبی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کے ہیں صحابہ سمہ ا به سمیت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ آئے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ اہل مدینہ کسی بات عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ پر اتنا خوش ہوئے ہوں جتنا رسول اللہ صلی اللہ فَرِحُوْا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُوْلِ اللَّهِ علیہ وسلم کے آنے پر خوش ہوئے۔ یہاں تک کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلَ لونڈیاں بھی کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ الْإِمَاءُ يَقُلْنَ قَدِمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ علیہ وسلم آگئے۔ حضرت براء کہتے تھے : آنحضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ: صلى الله علیہ وسلم ابھی مدینہ میں تشریف نہیں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى لا (الأعلى : (٢) لائے تھے کہ میں سورۃ الاعلیٰ اور بعض مفصل فِي سُوَرٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ۔ سورتیں پڑھ چکا تھا۔ ٣٩٢٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۹۲۶: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ بتایا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ہشام نے عروہ سے ، عروہ نے اپنے باپ سے، ان أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں : جب رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ قَالَتْ فَدَخَلْتُ ابو بکر اور حضرت بلال کو بخار ہو گیا۔ کہتی تھیں: عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ میں ان دونوں کے پاس گئی اور پوچھا: ابا ! آپ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَتْ فَكَانَ اپنے تیں کیسا پاتے ہیں اور بلال تم اپنے آپ کو أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُوْلُ : کیسا پاتے ہو؟ کہتی تھیں : جب حضرت ابو بکر" کو بخار چڑھتا تو وہ یہ شعر پڑھتے :