صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 419
صحیح البخاری جلدی ۴۱۹ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار کتاب المغازی شرح باب ۷ اروایت نمبر ۷ ۴۰۴ دیکھئے۔ روایت نمبر ۳۸۹۸ کے لئے کتاب بدء الوحی، روایت نمبر 1 دیکھئے۔ باقی روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے متعلق واقعات کا ذکر ہے۔ علامہ ابن حجر نے حاکم کے حوالے سے لکھا ہے کہ بیعت عقبہ ثانیہ سے تقریباً تین ماہ بعد آپ نے ہجرت فرمائی اور ابن اسحاق نے پورے وثوق سے لکھا ہے کہ ربیع الاول کی یکم تاریخ کو آپ مکہ مکرمہ سے نکلے ہیں۔ صحیح بخاری کی روایت نمبر ۳۹۰۶ میں ماہ ربیع الاول بروز دوشنبہ (سوموار ) آپ کی مدینہ میں آمد بتائی گئی ہے۔ اس بنا پر آپ کی ہجرت بیعت عقبہ ثاینہ سے دو ماہ اور کچھ دن بعد ہوئی اور مدینہ میں ۱۲ ربیع الاول کو آپ کا ورود ہوا۔ امام ابن حجر کے اندازہ کے مطابق یہ دن جمعرات کا ہے نہ کہ دو شنبہ ۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۲۸۳، ۲۸۴) بَاب ٤٦ : مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کا مدینہ میں آنا ٣٩٢٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۳۹۲۴: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعَ نے ہمیں بتایا، کہا: ابو اسحاق نے ہمیں خبر دی کہ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ مَنْ انہوں نے حضرت براء بن عازب ) رضی اللہ عنہ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ سے سنا۔ کہتے تھے: پہلے جو ہمارے پاس آئے أُمِّ مَكْتُوْمٍ ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ وہ مُصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم تھے۔ پھر يَاسِرٍ وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔ اس کے بعد عمار بن یاسر اور بلال رضی اللہ عنہم ہمارے پاس آئے۔ ٣٩٢٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۳۹۲۵ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَوَّلُ براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ پہلے جو ہمارے پاس آئے وہ مصعب بن عمیر وَابْنُ أُمِّ مَكْتُوْمٍ وَكَانُوْا يُقْرِئُوْنَ اور ابن ام مکتوم تھے ۔ جو لوگوں کو قرآن پڑھایا