صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 418
صحیح البخاری جلدے ۴۱۸ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار لیکن اہل مکہ کے مقابل ان (صحابہ) میں سے اثر و رسوخ والے صرف چند ایک ہی تھے۔ان کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کے باوجود یہ کھلی دشمنی کسی دن بھی انہیں شکست سے دو چار کر سکتی تھی اور ان کے مقصد کو تباہ کر سکتی تھی۔یہ نیادین مکہ میں اپنے قدم نہیں جمار ہا تھا۔تین چار سال پہلے عمرؓ اور حمزہ کے بعد سے اب تک کوئی قابل ذکر اس دین میں شامل نہیں ہوا تھا۔اگر عدم قبولیت کی یہ صورتحال چند سال اور بر قرار رہتی تو آپ کی کامیابی کا امکان ختم ہو جاتا۔" ' Mahomet, thus holding his people at bay; waiting in the still expectation of victory; to outward appearance defenceless, and with his little band as it were in the lion's mouth; yet, trusting in His almighty power whose Messenger he believed himself to be, resolute and unmoved;-presents a spectacle of sublimity paralleled only, in the Sacred Records, by such scenes as that of the Prophet of Israel when he complained to his Master, "I, even I only, am left۔"۔(The Life of Mahomet, Chapter 6th: The Biography of Mahomet, Confidence of Mahomet, Vol: 2, page 228) ترجمہ: محمد (صلی ال) ان مشکل حالات میں بھی اپنے ساتھیوں کو لے کر فتح کی امید رکھے ہوئے تھے۔بظاہر آپ بے یار و مددگار اپنی چھوٹی سی جماعت کے ساتھ شیر کے منہ میں بیٹھے تھے۔لیکن قادر و مقندر خدا پر کامل اور غیر متزلزل اعتماد تھا جس کا رسول ہونے کا آپ کو یقین تھا۔یہ عظیم الشان نظارہ کتاب مقدس کے ایک اسرائیلی نبی کی یاد دلاتا ہے جس نے اپنے رب کے حضور عرض کی تھی کہ میں اکیلا اور تنہا رہ گیا ہوں۔امام بخاری نے عنوان باب ۴۵ کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن زید و حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے دو حوالے ذکر کئے ہیں اور اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک رؤیا کہ میں نے دیکھا کہ میں نے ایسے علاقہ کی طرف ہجرت کی ہے جہاں نخلستان ہیں۔اس سے میرا خیال یمامہ یا ہجر (جو بحرین کا مشہور شہر ہے ) اس کی طرف گیا۔لیکن واقعہ میں وہ مدینہ تھا جو اپنے نخلستانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔حضرت عبد اللہ بن زید کی روایت کے لئے کتاب المغازی باب ۶ ۵ روایت نمبر ۴۳۳۰ دیکھئے اور حضرت ابو ہریرہ کی روایت کے لئے کتاب مناقب الانصار باب ۲ روایت نمبر ۳۷۷۹ دیکھئے اور تیسرے حوالہ کے لئے کتاب المناقب باب ۲۵ روایت نمبر ۳۶۲۲ دیکھئے۔ہجر میں قبائل عبد القیس سکونت پذیر تھے۔جن کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں احکام دین سیکھنے کے لئے مدینہ میں آیا۔(دیکھئے کتاب الایمان باب ۴۰ روایت نمبر (۵۳) روایت نمبر ۳۸۹۷، ۳۹۱۴ کے لئے