صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 31
صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ بنو تمیم بن مر بن اڈ بن طابخہ بن الیاس بن مضر )، بنو اسد بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر ) وغیرہ سے بہتر قرار دیئے گئے ہیں۔بعد کے واقعات نے بھی ارشاد نبوی کی تصدیق کر دی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ لوگ مرتد ہو گئے۔بنو اسد کا قبیلہ طلیحہ بن خویلد کی معیت میں اور بنو تمیم کا قبیلہ سجاح عورت کی معیت میں۔جس عبد اللہ بن غطفان کا ذکر روایت نمبر ۳۵۱۵ میں وارد ہوا ہے، اس کا زمانہ جاہلیت میں پہلا نام عبد العزیٰ تھا۔اسلام قبول کرنے پر اس کا نام عبد اللہ تبدیل فرمایا، تا نام میں شرک کی ملونی نہ رہے۔لات اور عربی بتوں کے نام تھے۔عبد اللہ بن غطفان کی اولاد بنو محولہ کے نام سے پکارے جانے لگے اور اسی روایت میں بنو عامر بن صعصعه کا نام بھی ہے۔یہ ابن معاویہ بن بکر بن ہوازن ہیں۔ہوازن کا قبیلہ بہت بڑا اور کئی قبائل پر مشتمل تھا۔ہوازن منصور ( بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس) کا بیٹا تھا۔اسی کے نام سے باقی خاندانوں نے انتساب کیا۔بَابِ ٧: ذِكْرُ قَحْطَانَ قحطان کا ذکر (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۶۶) سے ، ابوالغیث نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ٣٥١٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ :۳۵۱۷ عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ کیا، کہا: سلیمان بن بلال نے مجھ سے بیان کیا۔عَنْ ثَوْرِ بْن زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ انہوں نے ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُوْمُ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: وہ گھڑی اس السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ قحطان میں قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ۔سے ایک شخص پیدا نہ ہو جو لوگوں کو اپنی لاٹھی طرفه: 116 تشریح: سے بانکے۔ذِكْرُ قَخطَانَ : باب ۴ کی شرح میں بتایا جا چکا ہے کہ اہل یمن قحطان کی نسل سے ہیں اور ان کا حضرت اسماعیل کی ذریت سے کیا تعلق ہے۔قبائل حمیر ، کندہ و ہمدان وغیرہ کا شجرہ نسب بھی قحطان سے ملتا ہے۔قحطان کے مشہور قبائل کا شجرہ نسب ملاحظہ ہو: