صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 30
صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب قبیلہ غفار سے بنو غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن کنانہ مراد ہے۔اس قبیلہ میں سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔پھر وہ واپس گئے تو اس قبیلے کی اکثریت مسلمان ہو گئی۔مزینہ عورت کا نام تھا جو عمرو بن اڈ بن طابخہ کی بیوی تھی۔طابخہ الیاس بن مضر کا بیٹا تھا اور مزینہ کلب بن وبرہ کی بیٹی تھی جو اوس و عثمان کی ماں تھی اور ان کے باپ کا نام عمر و ہے۔انہی کی اولاد بنو مزینہ کہلائی۔مزنیوں میں سے قدیم صحابہ حضرت عبد اللہ بن مغفل بن عبد نم مزنی، ان کے چھا حضرت خزائی بن عبد نم، حضرت ایاس بن ہلال اور ان کا بیٹا حضرت قرہ ( بن ایاس) ہیں رضی اللہ عنہم۔یہ قرہ مشہور قاضی ایاس بن معاویہ (بن قرہ) کے دادا تھے۔مذکورہ بالا اشخاص کے علاوہ دیگر مزنیوں نے بھی اسلام قبول کیا تھا۔جہینہ کا شجرہ نسب یہ ہے جہینہ بن زید بن لیث بن سود بن اسلم بن الحاف بن قضاعہ۔اس قبیلہ کے مشہور صحابہ میں سے حضرت عقبہ بن عامر جہنی بھی ہیں۔قضاعہ کی نسبت میں اختلاف ہے۔اکثر کے نزدیک وہ حمیری ہے اور قحطان کی نسل سے۔بعض انہیں معد بن عدنان کی ذریت قرار دیتے ہیں۔جس کی وجہ اوپر بیان کی جاچکی ہے۔امجمع کا نسب نامہ یہ ہے المجمع بن ریث بن غطفان بن سعد بن تیں۔اس قبیلہ سے بھی مشہور صحابہ ہیں ان میں سے حضرت معقل بن سنان اور حضرت نعیم بن مسعود بن عامر بھی ہیں۔خلاصہ یہ کہ مذکورۃ الصدر پانچوں قبائل مضر میں سے ہیں۔پہلے تین (مزینہ، غفار اور اشجع ) تو بالا تفاق اور اسلم اور جہینہ ایک قول کے مطابق۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۶۴) باب کی پہلی روایت سے ظاہر ہے کہ یہ پانچوں قبائل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موالی ( مددگار معاہد) تھے۔روایت نمبر ۳۵۱۳ سے پایا جاتا ہے کہ آپ نے ان قبائل میں سے دو کی نسبت اپنے نیک جذبات کا اظہار فرمایا۔قبیلہ غفار کے لئے مغفرت کی دعا کی۔یہ لوگ حج کے موقع پر پہلے حاجیوں کو نقصان پہنچایا کرتے تھے۔اسلام میں داخل ہونے پر حضرت اقرنح نے اس کا ذکر کیا۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۵۱۶) آپ نے ان کے لئے دعا کی اور ان کی اصلاح ہوئی۔تحصیہ سے مراد بنو سلیم ہیں۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کیا جسے بعد میں توڑ دیا۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۶۶۵) اس لئے آپ نے اس کی نسبت ناراضگی کا اظہار کیا۔خاندانی نام خصیہ ہی سے معصیت اللہ کا مفہوم ادا کیا۔کبھی لطیفہ گوئی بھی نیک اثر پیدا کر دیتی ہے۔باب کی باقی روایتوں میں قبائل بنو تميم بنواسد بنو عبد الله بن غطفان اور بنو عامرین صحصحه - کا ذکر بھی وارد ہوا ہے۔مؤخر الذکر عامر بن صعصعه معاویہ (بن بکر بن ہوازن) کا بیٹا تھا۔یہ خاندان بھی مضر قبیلہ سے تھے۔لیکن مذکورہ بالا پانچ خاندانوں کے مد مقابل۔فَقَالَ رَجُلٌ خَابُوا وَخَسِرُوا - یہ کہنے والے شخص حضرت اقرع بن حابس تمیمی ہیں۔روایت نمبر ۳۵۱۶ میں انہی قبائل کی بیعت کا ذکر ہے۔إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيمِ حاجیوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں نے آپ کی بیعت کی ہے۔اور جو نیک تبدیلی ان میں پیدا ہوئی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر قدسی پر ایک بین شہادت ہے۔