صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 32
صحیح البخاری جلدی ۳۲ حضرت نوح علیہ السلام عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام ۶۱ - كتاب المناقب قحطان جر ہم يعرب مضاض سیا بنو عامله عمره کہلان حمیر اشعر مذحج طیبی همدان ازد کنده مراد انمار اوس غسان خزرج دوس خزاعه بنو عبد الاشہل بنو النجار بنو الحارث بنو ساعدو بنو المصطلق علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی شرح میں لکھا ہے کہ یہ قحطانی اس وقت تک مبعوث نہیں ہوا۔ یہ مہدی ہے جو حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے نزول سے پہلے ظاہر ہو گا اور لوگوں کو اپنے عصا سے ہانکے گا۔ اس فقرہ سے مراد یہ ہے کہ وہ بادشاہ ہو گا۔ اس بارے میں یہ استشكال اُٹھایا گیا ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو ان کی موجودگی میں قحطانی کا حکم نہیں چلے گا بلکہ حکمرانی تو حضرت عیسی علیہ السلام کی ہو گی۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ مہدی بحیثیت ان کے نائب اہم مہمات سر انجام دے گا۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۶۷) مزید تفصیل کتاب الفتن میں آئے گی۔