صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 406
صحیح البخاری جلدی ۲۰۶ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار يَلْحَقُ بِنَا قَالَ فَكَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ کے ایک طرف اُترے اور اس کے بعد انصار کو بُلا الله جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بھیجا۔ وہ بی اللہ صل اليوم ہ نبی اللہ صلی علی ایم کے پاس آئے اور انہوں نے وَسَلَّمَ وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً الحضر ت ملیم رت علی علیہم اور حضرت ابو ہر کوال ابو بکر کو السلام علیکم کہا لَّهُ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ اور کہنے لگے : آپ دونوں امن سے سوار ہو جائیں، صل الله علم ہم آپ کے فرمانبردار ہیں۔ نبی اللہ صلی علی رام اور حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ ابوبکر سوار ہو گئے اور انہوں نے ہتھیار لے کر إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا إِلَى نَبِيِّ اللهِ ان کے اردگر دگھیرا باندھ لیا اور مدینہ میں (جابجا) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرِ کہا جانے لگا: اللہ کے نبی تشریف لے آئے، اللہ کے نبی تشریف لے آئے۔ اللہ کی ان پر خاص رحمتیں فَسَلَّمُوْا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ ہوں اور سلامتی ہو؟ اور لوگ جھانک کر دیکھنے لگے مُطَاعَيْنِ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ اور کہنے لگے : جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ { جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ ) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَقَّوْا دُوْنَهُمَا آپ اسی طرح چلتے ہوئے آئے اور اگر حضرت بِالسَّلَاحِ فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ جَاءَ ابو ايوب (انصاری) کے گھر کے پاس اُترے۔ نَبِيُّ اللَّهِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الحضرت لا اعلم رت صلی الم اپنے گھر والوں سے بیان کیا کرتے وَسَلَّمَ فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُوْنَ وَيَقُوْلُوْنَ تھے کہ جب عبد اللہ بن سلام نے آپ کے آنے کے متعلق سنا تو اس وقت وہ اپنے گھر والوں کے جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ { جَاءَ نَبِيُّ اللهِ } ایک باغ میں ان کیلئے کھجوریں چن رہے تھے۔ جو فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى نَزَلَ جَانِبَ دَارِ کھجوریں ان کیلئے چینی تھیں وہ جلدی سے اس باغ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ میں کہیں رکھ بھی نہ سکے۔ وہ آئے اور وہ ان کے سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی اللہ علی السلام سے من اسے باتیں سنیں۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ گئے۔ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ فَعَجِلَ نبی اللہ صلی الله رحم اللہ صلی اللہ ولیم نے پوچھا: ہمارے عزیزوں کے گھروں أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا میں سے کس کا گھر زیادہ قریب ہے۔ حضرت ابو ایوب فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللهِ (انصاری) نے کہا: نبی اللہ ! یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا (1) الفاظ جَاءَ نَبِيُّ الله بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی میں دو دفعہ ہیں۔ (جلد اول صفحہ ۵۵۶)