صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 405
صحیح البخاری جلد ۴۰۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ۳۹۱۱: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۹۱۱ : محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔میرے باپ (عبدالوارث) نے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز بن صہیب نے عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالک نے ہم بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: نبی اللہ صلی علی یکم مدینہ کو نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى روانہ ہوئے اور آپ نے حضرت ابو بکر کو اپنے الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفَ أَبَا بَكْرِ پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔حضرت ابوبکر بوڑھے تھے۔النسر لوگ پہچان لیتے تھے اور نبی اللہ صلی علیہ یکم جوان تھے۔انہیں کوئی نہیں پہچانتا تھا۔حضرت انس کہتے تھے: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌ لَّا کوئی شخص حضرت ابو بکر سے ملتا تو پوچھتا: ابو بکر ! یہ يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ شخص کون ہے جو تمہارے آگے ہے؟ حضرت ابوبکر فَيَقُوْلُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ جواب دیتے: یہ شخص مجھے راستہ بتاتا ہے۔حضرت انس کہتے تھے سمجھنے والا سجھتا کہ ان کی مراد صرف الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ یہی راستہ ہے حالانکہ ان کی مراد بھلائی کا راستہ تھی۔يَهْدِيْنِي السَّبِيْلَ قَالَ فَيَحْسِبُ حضرت ابو بکر نے جو مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيْقَ ایک سوار ہے جو پیچھے سے انہیں آملا ہے۔حضرت وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيْلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ ابوبکر نے کہا: رسول اللہ ! یہ سوار ہے جس نے ہمیں پالیا ہے۔نبی اللہ صل الیم نے مڑکر دیکھا اور دعا کی کہ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ ہے اللہ اسے گرا دے۔چنانچہ گھوڑی نے اس کو فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ گرا دیا۔پھر وہ ہنہناتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔پھر وہ لَحِقَ بِنَا فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى الله کہنے لگا: اے نبی اللہ ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیجئے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعَهُ آپؐ نے فرمایا: پھر اپنی جگہ ہی ٹھہرے رہو۔کسی کو ہم تک نہ پہنچنے دینا۔حضرت انس کہتے تھے: وہ سوار فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ دن کے پہلے حصہ میں تو نبی اللہ صل اللہ ظلم کے خلاف فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ کوشش کر رہا تھا اور دن کے دوسرے حصہ میں وہ قَالَ فَقِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكُنَّ أَحَدًا آپ کا ہتھیار بن گیا۔رسول اللہ صلی العلی کم حرہ میدان