صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 405 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 405

صحیح البخاری جلدی ۴۰۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ۳۹۱۱: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۹۱۱: محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عبد الصمد نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ (عبدالوارث) عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ پہنے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز بن صہیب نے الله ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالک نے ہم ارضي عنه بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی اللہ صلی اللام مدینہ کو نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى روانہ ہوئے اور آپ نے حضرت ابوبکر کو اپنے الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ چھے بٹھایا ہوا تھا۔ حضرت ابو بکر بوڑھے تھے۔ صة الله يسلم لوگ پہچان لیتے تھے اور نبی اللہ صلی علی رسمی جوان تھے۔ وَأَبُو بَكْرِ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ الله انہیں کوئی نہیں پہچانتا تھا۔ حضرت انس کہتے تھے: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌ لَّا کوئی شخص حضرت ابو بکر سے ملتا تو پوچھتا: ابو بکر ! یہ يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ شخص کون ہے جو تمہارے آگے ہے؟ حضرت ابو بکر فَيَقُوْلُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ جواب دیتے ہیں یہ شخص مجھے راستہ بتاتا ہے۔ بتاتا ہے۔ حضرت انس کہتے تھے۔ سمجھنے والا سمجھتا کہ ان کی مراد صرف الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُوْلُ هَذَا الرَّجُلُ یہی راستہ ہے حالانکہ ان کی مراد بھلائی کا راستہ تھی۔ يَهْدِيْنِي السَّبِيلَ قَالَ فَيَحْسِبُ حضرت ابو بکر نے جو مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ ایک سوار ہے جو پیچھے سے انہیں آملا ہے۔ حضرت وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ ابوبکر نے کہا: رسول اللہ ! یہ سوار ہے جس نے ہمیں صا الله سلم علیوم أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَم پالیا ہے یا اللہ کی ایم نے مرکر دیکھا اور دعالی کہ اے اللہ اسے گرا دے۔ چنانچہ گھوڑی نے اس کو فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ گرا دیا۔ را دیا۔ پھر وہ ہنہناتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ پھر وہ لَحِقَ بِنَا فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى الله کہنے لگا: اے نبی اللہ ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیجئے۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ آپؐ نے فرمایا: پھر اپنی جگہ ہی ٹھہرے رہو۔ کسی کو فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ ہم تک نہ پہنچنے دینا۔ حضرت انس کہتے تھے: وہ سوار دن کے پہلے حصہ میں تو نبی اللہ صلی اللہ علم اللہ صلی علیہم کے خلاف فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ کوشش کر رہا تھا اور دن کے دوسرے حصہ میں وہ قَالَ فَقِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكُنَّ أَحَدًا آپ کا ہتھیار بن گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ یکم حرہ میدان التدير