صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 402
صحیح البخاری جلدی ۴۰۲ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار فَتَمَثَّلَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ آنحضرت صلی الم نے مسلمانوں میں سے ایک شخص يُسَمَّ لِي۔ کے شعر پڑھے۔ اس کا نام مجھے نہیں بتلایا گیا۔ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي ابن شہاب نے کہا: اور نہ ہی ہمیں دوسری احادیث الْأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَامٌ نے سوائے ان اشعار کے کبھی کوئی مکمل شعر غَيْرَ هَذِهِ الْأَبْيَاتِ۔ کسی کا پڑھا ہو۔ ۳۹۰۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۳۹۰۷ عبد اللہ بن ابی شیبہ نے ہمیں بتایا کہ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا هِشَامٌ عَنْ أَبِيْهِ وَفَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ ان کے والد اور فاطمہ (بن منذر) سے روایت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ ہے۔ ان دونوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے لئے جب انہوں حِيْنَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لِأَبِي نے مدینہ جانے کا ارادہ کیا، زادِ راہ تیار کیا اور میں مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطَهُ إِلَّا نِطَاقِي نے اپنے باپ سے کہا: میں کوئی چیز نہیں پاتی جس قَالَ فَشُقِّيْهِ فَفَعَلْتُ فَسُمِّيْتُ ذَاتَ سے اس کو باندھوں سوائے اپنے کمر بند کے۔ النِّطَاقَيْنِ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْمَاءُ انہوں نے کہا: پھر اسے ہی دو ٹکڑے کرلو۔ چنانچہ ذَاتَ النِّطَاقِ۔ اطرافه: ۲۹۷۹، ۵۳۸۸ میں نے ایسا ہی کیا اور اس لئے ذات النطاقین میرا نام رکھا گیا۔ حضرت ابن عباس نے ان کا یوں نام لیا: اسماء ذات النطاق۔ ۳۹۰۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۳۹۰۸ : محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی کہ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ابو اسحاق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے