صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 400
صحیح البخاری جلدے ۴۰۰ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار فَلَمَّا أَوَوْا إِلَى بُيُؤْتِهِمْ أَوْفَى رَجُلٌ مِّنْ کے بعد لوٹے اور اپنے گھروں پر جب پہنچے تو ایک يَهُوْدَ عَلَى أُطْمٍ مِنْ آطَامِهِمْ لِأَمْرِ يهودى شخص اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے کے لئے يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَبَصْرَ بِرَسُوْلِ اللهِ لا چڑھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھ لیا جو سفید کپڑے پہنے وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِيْنَ يَزُولُ بِهِمْ السَّرَابُ فَلَمْ يَمْلِكِ الْيَهُودِيُّ أَنْ ہوئے تھے۔سراب ان سے آہستہ آہستہ ہٹ رہا تھا۔یہودی سے رہا نہ گیا اور بے اختیار بلند آواز قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ سے بول اُٹھا: اے عرب کے لوگو ! یہ تمہارا وہ هَذَا جَدُّكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُوْنَ فَثَارَ سردار ہے جس کا تم انتظار کر رہے ہو۔یہ سنتے ہی الْمُسْلِمُوْنَ إِلَى السّلَاحِ فَتَلَقَّوْا مسلمان اٹھ کر اپنے ہتھیاروں کی طرف لیکے اور رَسُوْلَ اللهِ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ فَعَدَلَ حرہ کے میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي استقبال کیا۔آپ انہیں ساتھ لئے ہوئے داہنی طرف مڑے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِكَ يَوْمَ ان کے ساتھ اترے اور یہ دو شنبہ (سوموار) کا الإِثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيْعِ الْأَوَّلِ فَقَامَ دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ۔حضرت ابو بکر لوگوں أَبُو بَكْرِ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُوْلُ اللهِ سے ملنے کے لئے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صَامِنًا فَطَفِقَ مَنْ جَاءَ مِنَ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے اور انصار میں الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَّمْ يَرَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يُحَتِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَصَابَتِ الشَّمْسُ کو نہیں دیکھا تھا آئے اور حضرت ابوبکر کو سلام رَسُوْلَ اللهِ اللَّهِ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى کرنے لگے۔یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑنے لگی۔حضرت ابو بکر ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ فَعَرَفَ النَّاسُ آئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلَ اللهِ لا عِنْدَ ذَلِكَ فَلَبِثَ پر اپنی چادر سے سایہ کیا۔اس وقت لوگوں نے رَسُوْلُ اللهِ الله في بَنِي عَمْرِو بْنِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا اور رسول اللہ عَوْفٍ بِضْعَ عَشَرَةَ لَيْلَةً وَأُسس صلى اللہ علیہ وسلم بن عمرو بن عوف کے محلہ میں دس الْمَسْجِدُ الَّذِي أُمِّسَ عَلَى التَّقْوَى سے کچھ اوپر راتیں ٹھہرے اور وہ مسجد بنائی گئی