صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 399
صحیح البخاری جلدی ۳۹۹ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار القدسية فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوْا فِيْكَ آیا کہ ضرور رسول اللہ صلی علیہم کا ہی بول بالا ہو گا۔ الله الدِّيَةَ وَأَخْبَرْتُهُمْ أَخْبَارَ مَا يُرِيدُ میں نے آنحضرت صلی علیم سے کہا کہ آپ کی قوم النَّاسُ بِهِمْ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ نے آپ کے متعلق دیت مقرر کی ہے اور میں نے جو کچھ کہ لوگ ان سے وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَانِي وَلَمْ يَسْأَلَا نِي اِن کو وہ سب چیزیں بتائیں جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور میں نے ان کے إِلَّا أَنْ قَالَ أَخْفِ عَنَّا فَسَأَلْتُهُ أَنْ سامنے زاد اور سامان پیش کیا مگر انہوں نے مجھ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ أَمْنٍ فَأَمَرَ عَامِرَ سے نہ لیا اور نہ مجھ سے کوئی فرمائش کی سوائے اس بْنَ فُهَيْرَةَ فَكَتَبَ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدْمِ کے کہ آنحضرت صلی السلام نے یہ کہا کہ : علیہم کہ ہمارے سفر ثُمَّ مَضَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله کے متعلق حال پوشیدہ رکھنا۔ میں نے آنحضرت یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ صل الم سے درخواست کی کہ آپ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں۔ آپؐ نے عامر بن فہیرہ سے فرمایا اور اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا۔ اس کے بعد رسول الله صلی علی رسم اللہ صلی اللہ علم روانہ ہو گئے۔ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ ابن شہاب کہتے تھے: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ اللهِ لَقِيَ الزُّبَيْرَ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (راستہ میں) رض فِي رَكْبٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوْا حضرت زبیر سے ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلہ تِجَارًا قَافِلِينَ مِنَ الشَّامِ فَكَسَا الزُّبَيْرُ کے ساتھ شام سے تجارت کر کے واپس آرہے تھے۔ حضرت زبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلَ اللهِ اللهِ وَأَبَا بَكْرٍ ثِيَابَ اور حضرت ابوبکر کو سفید کپڑے پہنائے اور مدینہ بَيَاضٍ وَسَمِعَ الْمُسْلِمُوْنَ بِالْمَدِينَةِ میں مسلمانوں نے سن لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ اللهِ مِنْ مَكَّةَ علیہ وسلم مکہ سے نکل پڑے ہیں اس لئے وہ ہر صبح فَكَانُوْا يَغْدُوْنَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ حره میدان تک جایا کرتے اور وہاں آپ کا انتظار فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّى يَرُدَّهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ دو پہر کی گرمی انہیں فَانْقَلَبُوْا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُمْ لوٹا دیتی۔ ایک دن ان کا بہت دیر جو انتظار کرنے