صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 398
صحیح البخاری جلدے ۳۹۸ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار عَالِيَهُ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا پہنچا اور اس پر سوار ہو گیا۔میں نے اس کو چمکایا۔فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى دَنَوْتُ وہ سرپٹ دوڑتی ہوئی مجھے لے گئی۔یہاں تک کہ مِنْهُمْ فَعَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ جب ان کے قریب پہنچا تو میری گھوڑی نے ایسی عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ يَدِي إِلَى ٹھوکر کھائی کہ میں اس سے گر پڑا۔میں اٹھ کھڑا كِنَانَتِي فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ ہوا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ جھکا کر میں نے اس سے تیر نکالے اور ان سے فال لی کہ آیا ان کو فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضْرُّهُمْ أَمْ لَا نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں۔پس وہی نکلا جسے میں فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ فَرَكِبْتُ فَرَسِي نا پسند کرتا تھا۔(یعنی قال میرے خلاف نکلی ) میں وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ تُقَرِّبُ بِي حَتَّی پھر اپنی گھوڑی پر سوار ہو گیا اور پانسے کے خلاف إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُوْلِ اللهِ عمل کیا۔گھوڑی سرپٹ دوڑتے ہوئے مجھے لئے جا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا رہی تھی اور اتنا نز دیک ہوگیا کہ میں نے رسول اللہ يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الْالْتِفَاتَ على الام کو قرآن پڑھتے سن لیا۔آپ ادھر ادھر نہیں سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى دیکھتے تھے اور حضرت ابو بکر کثرت سے مڑ مڑ کر بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا ثُمَّ دیکھتے تھے۔میری گھوڑی کی انگلی ٹانگیں زمین میں زَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ گھٹنوں تک دھنس گئیں اور میں اس سے گر پڑا۔پھر میں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور اٹھ کھڑا ہوا اور وہ اپنی يَدَيْهَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَر ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔آخر جب وہ يَدَيْهَا عُتَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گرد مِثلُ الدُّحَانِ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ اٹھ کر فضا میں دھوئیں کی طرح پھیل گئی۔اب میں فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ فَنَادَيْتُهُمْ بِالْأَمَانِ نے دوبارہ تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں فَوَقَفُوْا فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ نا پسند کرتا تھا۔تب میں نے انہیں آواز دی کہ تم وَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِيْنَ لَقِيْتُ مَا امن میں ہو۔وہ ٹھہر گئے۔میں اپنی گھوڑی پر سوار لَقِيْتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنْ سَيَظْهَرُ ہو کر ان کے پاس آیا۔ان تک پہنچنے میں جو روکیں أَمْرُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجھے پیش آئیں ان کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال