صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 395 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 395

صحیح البخاری جلد ۳۹۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار لے چلئے۔میرے ماں باپ آپ پر قربان۔تو أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ آپ ہی کے گھر والے ہیں (یعنی عائشہ اور اتم رومان لِي فِي الْخُرُوجِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ان کی والدہ) تو رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا: مجھے الصَّحَابَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ہجرت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔تو حضرت ابو بکر نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے بھی اپنے ساتھ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَخُذْ بِأَبِي رسول اللہ صل السلام نے فرمایا: ہاں ( تم بھی میرے أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ ساتھ چلو ) پھر حضرت ابو بکر نے کہا: میرے ماں هَاتَيْنِ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ باپ آپ پر قربان تو پھر میری ان دو سواری کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ عَائِشَةُ اونیوں میں سے ایک آپ لے لیجئے۔رسول اللہ فَجَهَّزْنَا هُمَا أَحَثَ الْجِهَازِ وَصَنَعْنَا عَلى الم نے فرمایا: قیمتا لوں گا۔حضرت عائشہ کہتی فَقَطَعَتْ تھیں: چنانچہ ہم نے جلدی سے دونوں کا سامان لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ سفر تیار کر دیا اور ہم نے ان کے لئے توشہ تیار أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ کر کے چمڑے کے تھیلہ میں ڈال دیا۔حضرت نِطَاقِهَا فَرَبَطَتْ بِهِ عَلَى فَمِ الْجِرَابِ ابوبکر کی بیٹی حضرت اسماء نے اپنے کمر بند سے ایک فَبِذَلِكَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِطَاقِ۔قَالَتْ ٹکڑا کاٹ کر تھیلے کے منہ کو اس سے باندھا، اس ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لئے ان کا نام ذات النطاق ہو گیا۔کہتی تھیں: پھر وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلِ ثَوْرٍ اس کے بعد رسول اللہ صل اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر ثور فَكَمَنَا فِيْهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَبِيْتُ پہاڑ کی ایک غار میں جاپہنچے اور اس میں تین راتیں عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ چھے رہے۔حضرت عبد اللہ بن ابوبکر ان دونوں کے پاس جاکر رات ٹھہرتے اور اس وقت وہ غُلَامٌ شَابٌ ثَقِفٌ لَقِنٌ فَيُدْلِجُ مِنْ چالاک اور ہشیار جوان تھے اور اندھیرے ہی میں عِنْدِهِمَا بِسَحَرٍ فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ ان کے پاس سے چلے آتے اور مکہ میں قریش کے بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا ساتھ ہی صبح کرتے جیسے وہیں رات گزاری ہے۔يُكْتَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّى يَأْتِيَهُمَا جو تدبیر بھی ان کے متعلق سنتے وہ اس کو اچھی طرح بِخَبَرِ ذَلِكَ حِيْنَ يَخْتَلِطُ الطَّلَامُ سمجھ لیتے اور جب اندھیرا ہو جاتا تو غار میں پہنچ کر