صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 394
صحیح البخاری جلد ۳۹۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ کو لوٹ آئے اور حضرت ابو بکر نے بھی مدینہ أَبُو بَكْرِ نَفْسَهُ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ جانے کی تیاری کی تو نبی صلی للہ ہم نے فرمایا: ذرا ٹھہر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَصْحَبَهُ جائیں۔کیونکہ میں بھی امید کرتا ہوں کہ مجھے بھی وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ اجازت دی جائے۔حضرت ابو بکر نے کہا: اور کیا السَّمُرِ وَهُوَ الْخَبَطُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ۔آپ اس کی امید کرتے ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔چنانچہ حضرت ابوبکر نے رسول اللہ صل العلوم کی خاطر اپنے آپ کو روکے رکھا تا وہ آپ کے ساتھ ہی جائیں اور دو سواری کی اونٹنیوں کو جو اُن کے پاس تھیں کیکر کے پتے چار مہینے تک چراتے رہے۔قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ ابن شہاب کہتے تھے: عروہ نے کہا: حضرت عائشہ عَائِشَةُ فَبَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِی کہتی تھیں : ایک دن ہم حضرت ابو بکر کے گھر ٹھیک بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ دوپہر کے وقت بیٹھے ہوئے تھے ، کسی کہنے والے نے حضرت ابو بکر سے کہا: رسول اللہ صلی للی کام اپنے قَالَ قَائِلَ لِأَبِي بَكْرٍ هَذَا رَسُوْلُ اللَّهِ سر پر کپڑا اوڑھے ہوئے آرہے ہیں۔آپ ایسے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعَا فِي وقت آئے کہ جس میں آپ ہمارے پاس نہیں آیا سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِيْنَا فِيْهَا فَقَالَ کرتے تھے۔تو حضرت ابوبکر نے کہا: میرے ماں أَبُو بَكْرٍ فِدَاءٌ لَّهُ أَبِي وَأُمِي وَاللهِ مَا باپ آپ پر قربان۔خدا کی قسم ! آپ جو اس وقت جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ تشریف لائے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے۔کہتی قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ تھیں: اتنے میں رسول اللہ کی ہم آن ہی پہنچے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ اندر آنے کی اجازت مانگی۔حضرت ابوبکر نے اجازت دی۔آپ اندر آئے۔نبی صلی علیہم نے فَدَخَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابو بکر سے کہا: جو تمہارے پاس ہیں انہیں وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ باہر بھیج دو۔حضرت ابو بکر نے کہا: یا رسول اللہ ! فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي میرے ماں باپ آپ پر قربان۔گھر میں تو صرف