صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 391
صحیح البخاری جلدی ۳۹۱ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَلَمَّا جب مسلمانوں کو تکلیفیں ہوئیں حضرت ابو بکر حبشہ ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُوْنَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ کے ملک کی طرف ہجرت کی نیت سے نکل گئے۔ مُهَاجِرًا نَحْوَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى جب برک الغماد میں پہنچے تو انہیں ابن الدغنہ ملا اور وہ قارہ قبیلہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا : ابو بکر إِذَا بَلَغَ بَرْكَ الْعِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: میری قوم وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ نے مجھے نکال دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ زمین يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجَنِي میں سیر کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔ قَوْمِي فَأُرِيدُ أَنْ أَسِيْحَ فِي الْأَرْضِ ابن الدغنہ نے کہا: اے ابوبکر ! تمہارے جیسے وَأَعْبُدَ رَبِّي قَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ فَإِنَّ بہترین شخص کو ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اسے مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لَا يَخْرُجُ وَلَا نکالا جانا چاہیے۔ تم تو نادار کو کما کر دیتے ہو، صلہ رحمی يُخْرَجُ إِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ کرتے۔ ہو ، عاجز کو سہارا دیتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور پیش آمدہ ضرورتوں میں مدد دیتے وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي ہو۔ میں تمہاری پناہ ہوں گا۔ واپس جاؤ اور اپنے الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ شہر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرو۔ چنانچہ فَأَنَا لَكَ جَارٌ ارْجِعْ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حضرت ابوبکر لوٹ آئے اور ابن الدغنہ نے بھی بِبَلَدِكَ فَرَجَعَ وَارْتَحَلَ مَعَهُ ابْنُ ان کے ساتھ ہی کوچ کیا۔ پھر ابن الدغنہ نے شام الدَّغِنَةِ فَطَافَ ابْنُ الدَّغِنَةِ عَشِيَّةً کے وقت قریش کے بڑے بڑے لوگوں میں چکر فِي أَشْرَافِ قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ لگایا اور ان سے کہا: ابوبکر جیسے بہترین شخص کو أَبَا بَكْرٍ لَا يَخْرُجُ مِثْلُهُ وَلَا يُخْرَجُ ملک سے نہیں جانا چاہیے اور نہ اس کو نکالا جانا أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا يَكْسِبُ الْمَعْدُومَ چاہیے۔ کیا ؟ کیا تم اس شخص کو نکالتے ہو جو نادار کو کما کر دیتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، عاجز کو سہارا دیتا ہے، وَيَصِلُ الرَّحِمَ وَيَحْمِلُ الْكَلَّ وَيَقْرِي مہمان نوازی کرتا ہے اور پیش آمدہ ضرورتوں میں الضَّيْفَ وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ مدد دیتا ہے۔ چنانچہ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ رو فَلَمْ تُكَذِّبْ قُرَيْشٍ بِجِوَارِ ابْنِ الدَّغِنَةِ نہیں کی اور انہوں نے ابن الدغنہ سے کہا: ابوبکر وَقَالُوْا لِابْنِ الدَّغِنَةِ مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيَعْبُدْ سے کہو کہ اپنی چار دیواری میں ہی اپنے رب کی