صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 390
صحیح البخاری جلد ۳۹۰ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار أَعْلَمَنَا بِهِ وَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَمَنَ النَّاسِ عَنْ عَبْدِ خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ صلى الله علیہ وسلم تو ایسے بندے کے متعلق خبر زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ دے رہے ہیں کہ جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ يَقُوْلُ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ یا وہ دنیا کی زیبائش اس کو دے یا وہ جو اس کے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس ہے وہ لے اور یہ کہتا ہے : ہمارے ماں باپ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ آپ پر قربان۔تو اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ تھے جن کو اختیار دیا گیا تھا اور حضرت ابوبکر ہم سب سے زیادہ اس بات کو ہم سمجھنے والے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ نے فرمایا: تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھ پر احسان وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذَا خَلِيْلًا مِنْ أُمَّتِي کرنے والا کیا بلحاظ رفاقت اور کیا بلحاظ مال خرچ لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ إِلَّا خُلَّةَ الْإِسْلَامِ کرنے کے ابو بکر ہے اور اگر میں نے اپنی امت لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْحَةٌ إِلَّا میں کسی کو جانی دوست بنا نا ہوتا تو ضرور میں ابو بکر کو بناتا۔اب صرف اسلام ہی کی دوستی خَوْحَةُ أَبِي بَكْرٍ۔اطرافه: ۴۶۶، ۳۶۵۴ ہے۔مسجد میں کوئی کھڑ کی نہ رہے سوائے ابو بکر (کے مکان) کی کھڑکی کے۔٣٩٠٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۳۹۰۵ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ قَالَ ابْنُ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔لیث نے عقیل سے شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ روایت کی کہ ابن شہاب نے کہا کہ عروہ بن زبیر أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: جب سے میں نے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اپنے ماں باپ کے متعلق ہوش سنبھالی ہے وہ اس لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِيْنَانِ دین کے پابند تھے اور ہم پر کوئی بھی دن نہ گزرتا الدِّيْنَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا تھا کہ جس میں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ فِيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم دونوں وقت صبح اور شام نہ آتے ہوں۔