صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 387
صحیح البخاری جلدی ۳۸۷ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ۳۸۹۹ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ ۳۸۹۹: اسحاق بن یزید دمشقی نے مجھے بتایا کہ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ يحي بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابو عمرو قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ اوزاعی نے عبدہ بن ابولبابہ سے روایت کرتے عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ ہوئے مجھے بتایا۔ عبدہ نے مجاہد بن جبر مکی سے جَبْرِ الْمَكِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ روایت کی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُوْلُ لَا هِجْرَةَ کہتے تھے کہ فتح کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔ بَعْدَ الْفَتْحِ۔ اطرافه: ۴۳۰۹، ۴۳۱۰، ۴۳۱۱ ۳۹۰۰ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ٣٩٠٠: يحي بن حمزہ نے کہا: اور اوزاعی نے وَحَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ عطاء بن ابی رباح سے روایت کرتے ہوئے مجھے أَبِي رَبَاحٍ قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بتایا۔ کہا: میں نے عبید بن عمیر لیٹی کے ساتھ بْنِ عُمَيْرِ اللَّيْنِي فَسَأَلْنَاهَا عَنِ حضرت عائشہ سے ملاقات کی اور ہم نے ان سے الْهَجْرَةِ فَقَالَتْ لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ كَانَ ہجرت کے متعلق پوچھا۔ وہ کہنے لگیں: آج کوئی الْمُؤْمِنُوْنَ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِيْنِهِ إِلَى ہجرت نہیں۔ مومنوں کا یہ حال تھا کہ ان میں سے ایک اپنے دین کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَّا ڈر سے بھاگا کرتا تھا کہ کہیں اس کو ابتلاء میں نہ الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللهُ الْإِسْلَامَ وَالْيَوْمَ ڈال دیا جائے۔ مگر آج تو اسلام کو اللہ نے غالب يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ وَلَكِنْ جِهَادٌ کر دیا ہے اور آج وہ اپنے رب کی جہاں چاہتا ہے ونِيَّةٌ ۔ اطرافه: ۳۰۸۰، ۴۳۱۲ عبادت کرتا ہے۔ لیکن جہاد اور (جہاد کی ) نیت کا ثواب باقی ہے۔ ۳۹۰۱ : حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ۳۹۰۱ زکریا بن یحییٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي (عبد الله ) بن نمیر نے ہمیں بتایا: ہشام ( بن عروہ )