صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 381 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 381

صحیح البخاری جلد FAI ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ہوا کہ آپ جیسا خلیق اور قوم میں ہر دلعزیز نکالا جائے گا مگر واقعات اسی طرح رو نما ہوئے۔اس سے کفار قریش کی شرک سے انتہائی وابستگی اور اس میں ان کی گہرائی کا پتہ چلتا ہے۔آخر آپ اس کے استیصال میں کامیاب ہوئے۔اس کامیابی سے آپ کی عظمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔شرک میں ان کا تعمیق اور آپ سے شدید دشمنی اور ان کی انتہائی مخالفت آپ کی عظمت پر کھنے کا صحیح معیار ہے۔یہ وہ امر ہے جس کا اقرار عیسائی غیر محققین کو بھی ہے کہ انتہائی مشکلات و نازک ترین لمحات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر سے آپ کا عظیم الشان مقصد او جھل نہیں ہونے پایا بلکہ عزم بالجزم کے ساتھ چٹان کی طرح آپ اپنے مقصد پر قائم رہے۔بَاب ٤ ٤ : تَزْوِيْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَقُدُوْمُهَا الْمَدِينَةَ وَبِنَاتُهُ بِهَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ سے نکاح کرنا اور اُن کا مدینہ میں آنا اور آپ کا حضرت عائشہ کو بوقت شادی اپنے گھر میں لانا ٣٨٩٤ : حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي :۳۸۹۴ فروہ بن ابی المغراء نے مجھے بتایا کہ علی الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ بن مسہر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ) هِشَامٍ {عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ سے روایت ہے۔{ ہشام نے اپنے باپ سے } اللهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت رَضِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ کی۔کہتی تھیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سِتِ سِنِينَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا نکاح کیا اور اس وقت میں چھ سال کی تھی اور پھر ہم مدینہ میں بنی حارث بن خزرج کے ہاں اترے۔فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ میں بخار سے بیمار ہوگئی اور میرے بال جھڑ گئے۔فَوُعِكْتُ فَتَمَزَّقَ شَعَرِي فَوَفَى جب بال کندھوں تک بڑھ گئے تو میری والدہ جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُوْمَانَ وَإِنِّي حضرت ام رومان میرے پاس آئیں اور اس وقت لَفِي أُرْجُوْحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے میں جھول فَصَرَحَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا لَا أَدْرِي مَا رہی تھی۔انہوں نے مجھے پکارا۔میں ان کے پاس 1) الفاظ عَنْ أَبِيهِ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزء۱۷ صفحہ ۳۴)