صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 382 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 382

صحیح البخاری جلد ۳۸۲ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار تُرِيْدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي گئی۔مجھے پتہ نہ تھا کہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں۔عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأُنْهِجُ حَتَّى انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور لے جا کر مجھے گھر کے سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا دروازے پر کھڑا کر دیا اور میں ہانپ رہی تھی۔مِنْ مَّاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي جب میرا سانس کچھ ٹھہرا تو پھر میری ماں نے کچھ پانی لیا اور اس سے میرا منہ اور میرا سر پونچھا۔پھر ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِّنَ مجھے گھر کے اندر لے گئیں۔تو کیا دیکھتی ہوں کہ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى کرہ میں کچھ انصار کی عورتیں ہیں۔انہوں نے الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ کہا: خیر و برکت ہو اور اچھا نصیب ہو۔میری ماں فَأَسْلَمَشِي إِلَيْهِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي نے مجھ کو ان کے سپرد کر دیا۔انہوں نے میرا فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ سنگھار کیا۔پھر چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ علیہ وسلم اچانک آگئے جس سے میں کچھ گھبرا گئی۔وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعَ سِنِيْنَ۔میری ماں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا اور اس وقت میری عمر نو سال تھی۔اطرافه ۳۸۹۶ ۵۱۳۳، ۵۱۳۴، ۵۱۵۶، ۵۱۵۸، ۵۱۶۰ ٣٨٩٥: حَدَّثَنَا مُعَلَّى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ :۳۸۹۵ معلی ( بن اسد) نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ هِشَامِ بْن عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ (انہوں نے کہا :) وہیب بن خالد) نے ہمیں اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَائِشَةَ رَضِيَ أُريتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ أَرَى أَنَّكِ ان سے فرمایا: خواب میں دو دفعہ تم مجھے دکھائی فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيْرٍ وَيَقُوْلُ هَذِهِ گئی تھی۔میں دیکھتا ہوں کہ تم ریشمی کپڑے کے امْرَأَتُكَ فَاكْشِفْ عَنْهَا } فَإِذَا هِيَ ایک ٹکڑے میں ہو اور کوئی کہتا ہے: یہ تمہاری أَنْتِ {فَأَقُوْلُ} إِنْ يَّكُ هَذَا مِنْ بیوی ہے { اسے } کھول کر دیکھو۔تو کیا دیکھتا ہوں ا یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۷ صفحہ ۳۵)