صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 380
صحیح البخاری جلدی ٣٨٠ ۶۳ - کتاب مناقب الأنصار اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمیں اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے کہ ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔ اس پر ستر انصار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور دفاعی معاہدہ میں آپ کے ہاتھ پر بک گئے۔ اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سیرت خاتم النبيين صلى عليه لم بیین صلی علیدوم ، مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، صفحه ا ۲۲۱ تا ۲۲۹ صلة المرسل لرحیم زیر باب پانچ روایتیں ہیں۔ دوسری روایت کے آخر میں امام بخاری نے بیعت عقبہ کے تعلق میں حضرت براء بن معرور کی موجودگی کا حوالہ دیا ہے۔ اس حوالہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مذکورہ بیعت کا تعلق بیعت عقبہ ثانیہ سے ہے نہ که بیعت عقبہ اولی سے۔ پہلی بیعت عقبہ کے موقع پر نہ حضرت براء بن معرور موجو د تھے اور نہ حضرت کعب بن مالک اور حضرت عبد اللہ بن عمرو ابو جابر۔ اس بارے میں ابن ہشام نے ابو ادریس عائذ اللہ کی روایت نمبر ۳۸۹۲ اور صنابحی کی روایت نمبر ۳۸۹۳ بھی نقل کی ہے ج؟ ہے جو بیعت عقبہ اولیٰ کے متعلق ہے۔ (اللہ ہے۔ (السيرة النبوية لابن هشام ، العقبة الاولى، عهد الرسول على مبايعي العقبة، جزء اول صفحہ ۴۳۳، ۴۳۴) اس تبصرہ سے ظاہر ہے کہ عنوان باب کا تعلق دونوں بیعتوں سے ہے۔ بیعت عقبہ ثانیہ دراصل بیعت عقبہ اولیٰ ہی کے تسلسل میں تھی اور ہجرت مدینہ کے لئے پیش خیمہ ۔ اس یہاں یہ ذکر کر دینا ضروری ۔ کر دینا ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کو مکہ کی اقامت پرا لئے ترجیح نہیں دی تھی کہ آپ کو اپنی جان کا خطرہ تھا۔ اس کا خطرہ تو حضرت عباس اور آپؐ کے اعزہ واقارب کو تھا۔ قریش آپ کو قتل کروانے کا فیصلہ کر چکے تھے اور اس کے لئے انعام بھی مقرر کیا ہوا تھا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس بات کا فکر تھا وہ اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کی تعمیل میں تھا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ (المائدة :۶۸) اے نبی ! جو (کلام) تجھ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچاؤ، جیسا کہ پہنچانے کا حق ہے اور اگر تو نے کوتاہی کی تو تو نے اس کی پیغام رسانی نہ کی۔ سورۃ المائدہ کا بیشتر حصہ آپ کی مدنی زندگی میں نازل ہوا تھا لیکن اس سورۃ کی بعض آیات مکی زندگی میں نازل ہوئی تھیں اور ترتیب میں اس سورۃ میں شامل کی گئیں۔ چنانچہ اس حکم کا سباق اس عرصہ پر دلالت کرتا ہے جب آپ کی جان انتہائی خطرہ میں تھی۔ کیونکہ اس آیت میں آپ کو لوگوں کے حملوں سے بچائے جانے کا حتمی وعدہ ہے۔ جیسے کہ فرمایا: وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۲۸) اسی طرح کفار کے اپنے منصوبے میں ناکام ہونے کا بھی ذکر ہے۔ جیسے کہ فرمایا : إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الكَفِرِينَ ) ( المائدة : ۶۸) غرض کفار مکہ سے ڈر کر نہیں بلکہ اس لئے آپ نے اہل مدینہ کے وفود کی درخواست قبول فرمائی کہ آپ کو اس میں ارشاد باری تعالیٰ کی تعمیل کی امید نظر آئی اور جو کامیابی آپ کو حاصل ہوئی وہ عدیم المثال ہے۔ اس تعلق میں ورقہ بن نوفل کی شہادت کتاب بدء الوحی روایت نمبر ۳ میں ملاحظہ ہو جس نے صحف انبیائے بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں کی بنا پر آپ کے اپنے وطن سے نکالے جانے سے متعلق اندیشہ کا اظہار کیا تو آپ کو تعجب