صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 379 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 379

صحیح البخاری جلد ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار مکہ سے رخصت ہوتے وقت ان بارہ نو مسلمین نے درخواست کی کہ ان کے ہمراہ کوئی ایسا آدمی بھیجا جائے جو انہیں اسلام کی تعلیم دے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر کو ان کے ہمراہ بھیجوایا۔حضرت مصعب بن عمیر کے یثرب پہنچنے پر اسلام کا چر چا گھر گھر ہونے لگا اور مشرب کے قبائل اوس و خزرج کے افراد تیزی کے ساتھ مسلمان ہونے لگے۔اگلے سال یعنی ۱۳ نبوی کے ماہ ذوالحجہ میں حج کے موقع پر اوس و خزرج کے کئی سو آدمی مکہ میں آئے۔ان میں ستر اشخاص ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے یا اب مسلمان ہونا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے مکہ آئے تھے۔حضرت مصعب بن عمیر بھی ان کے ساتھ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت مصعب سے انصار کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی اور ان میں سے بعض لوگ آپ سے انفرادی طور پر ملاقات بھی کر چکے تھے۔مگر چونکہ اس موقع پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات کی ضرورت تھی۔اس لئے مراسم حج کے بعد ماہ ذوالحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گزشتہ سال والی گھاٹی میں آپ کو آکر ملیں تا کہ اطمینان کے ساتھ بات ہو سکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو تاکید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک دو دو کر کے مقررہ وقت پر گھاٹی میں پہنچ جائیں۔چنانچہ مقررہ تاریخ پر رات کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گھر سے نکلے اور راستہ میں اپنے چچا عباس کو ساتھ لیا جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر آپ سے محبت رکھتے تھے اور پھر دونوں مل کر اس گھاٹی میں پہنچے۔انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے وہاں پہنچ گئے۔یہ کل ستر افراد تھے۔سب سے پہلے عباس نے گفتگو شروع کی۔کہا: اے خزرج کے گروہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے خاندان میں معزز و محبوب ہے اور وہ خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے۔ہر خطرہ کے وقت میں اس کے لئے سینہ سپر رہا ہے۔مگر اب محمد کا ارادہ اپنے وطن کو چھوڑ کر تمہارے پاس چلے جانے کا ہے۔سو اگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہو گی اور ہر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونا پڑے گا۔اگر تم اس کے لئے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو۔حضرت براء بن معرور جو انصار کے قبیلہ کے ایک معمر اور با اثر بزرگ تھے۔انہوں نے کہا: عباس ہم نے تمہاری گفتگو سن لی ہے۔لیکن ہم چاہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اپنی زبان مبارک سے کچھ فرمائیں اور جو ذمہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان کریں۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر مختصر طور پر حقوق اللہ اور حقوق العباد پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ معاملہ کرو۔جب آپ تقریر ختم کر چکے تو حضرت براء بن معرور نے عرب کے طریق کے مطابق آپ کا ہاتھ